مکو آ نہ (رپورٹنگ آن لائن)موسم سرما کی آمد کے باعث فیصل آباد سمیت ڈویژن کے دیگر اضلاع جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ اور صوبہ بھر کے تمام شہروں میں خشک میوہ جات کی خرید و فروخت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے اور جگہ جگہ ڈرائی فروٹس کی دکانیں، پھٹے، ریڑھیاں سج گئی ہیں جن کے ساتھ ساتھ خشک میوہ جات کی قیمتیں بھی آسمانوں کو چھونے لگی ہیں مگر کسی قسم کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے پر ڈرائی فروٹ شاپس مالکان شہریوں سے منہ مانگے دام وصول کررہے ہیں جس پر شہریوں نے ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے حکام سے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈرائی فروٹس مرچنٹ ایسوسی ایشن کے ترجمان طارق شفیع پٹھان نے بتایاکہ خشک میوہ جات کی عالمی مارکیٹ کی طلب تقریباً9لاکھ 50ہزار ٹن سالانہ ہے جبکہ پاکستان سے 10ہزار ٹن خشک میوہ جات برآمد کئے جاتے ہیں جن سے سالانہ 145 ملین ڈالر کا زر مبادلہ کمایا جاتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ خشک میوہ جات کی عالمی مارکیٹ کے سالانہ کاروبار کا حجم 41ارب ڈالر ہے۔انہوں نے بتایاکہ صرف ضلع سوات میں خشک میوہ جات کی پیداوار73295ٹن ہے مگر جدید سہولیات اور پراسیسنگ یونٹس کی عدم دستیابی و کمی کے باعث ہر سال تقریباً 34ہزار ٹن پھل اور خشک میوہ جات خراب ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ اگر حکومت مناسب سہولیات فراہم کرے اور افغانستان و ایران سے خشک میوہ جات کی سمگلنگ روک دی جائے تو ملکی خشک میوہ جات کی پیداوار میں نہ صرف اضافہ بلکہ یہ خشک میوہ جات شہریوں کو سستے داموں بھی دستیاب ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب اس حوالے سے شہریوں نے ایک سروے کے دوران بتایاکہ فیصل آباد اور نواحی اضلاع میں مونگ پھلی800روپے سے 1200روپے فی کلو، چلغوزہ12ہزار روپے سے15ہزار روپے فی کلو،بادام 28سو روپے سے32سو روپے فی کلو، کاجوساڑھے3ہزار روپے سے4ہزار روپے فی کلو،
کاغذی اخروٹ 1200روپے سے 1500 روپے فی کلو، پستہ 3ہزار روپے سے 35سو روپے فی کلو،کشمش 1200روپے سے1500روپے فی کلو اور ریوڑی 700روپے سے 800روپے فی کلو گرام فروخت کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کسی دکان پر کوئی نرخ نامے آویزاں نہیں اور زیادہ تر پٹھان ڈرائی فروٹس کا کاروبار کر رہے ہیں جنہوں نے منہ مانگے نرخ وصول کرنا شروع کر رکھے ہیں۔








