جوڈیشل الاؤنس 39

منشیات کیس ، شہری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر وفاقی سیکرٹری داخلہ ہائیکورٹ میں طلب

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کے مقدمے سے بری ہونے والے شہری شاہد ملک کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس محمد طارق ندیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شہری شاہد ملک کی درخواست پر کی۔سماعت کے دوران اے این ایف کی جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر ظفر اقبال چوہان پیش ہوئے جبکہ وفاقی حکومت کی نمائندگی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کی۔

درخواست گزار شاہد ملک نے موقف اختیار کیا کہ وہ منشیات کے مقدمے سے باعزت بری ہو چکا ہے، اس کے باوجود وزارتِ داخلہ نے اس کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزارتِ داخلہ کو ہدایت کی جائے کہ اس کا نام فہرست سے خارج کیا جائے تاکہ وہ بیرونِ ملک سفر کر سکے۔پراسیکیوٹر اے این ایف نے عدالت کو بتایا کہ شاہد ملک کے خلاف دو کلو ہیروئن رکھنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم ٹرائل کے دوران عدالت نے شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے ملزم کو بری کر دیا۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ جب شہری بری ہو چکا ہے تو اس کا نام تاحال ای سی ایل میں کیوں برقرار رکھا گیا ہے؟۔جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیئے کہ کیا ہر معاملے کے لیے عدالت کا حکم ضروری ہے؟ ۔وزارتِ داخلہ کو خود ایسے معاملات کا جائزہ لینا چاہیے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔

وفاقی حکومت کے لا افسر نے موقف اختیار کیا کہ وزارتِ داخلہ اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اگر عدالت حکم دے تو درخواست گزار کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں تاخیر ناقابلِ قبول ہے اور وفاقی سیکرٹری داخلہ سے براہِ راست وضاحت طلب کی۔دو رکنی بینچ نے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 17نومبر تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں