نور جہاں 73

ملکہ ترنم کا گیت 53سال بعد بھارتی جین زی کے دلوں کی دھڑکن بن گیا

لاہور(رپورٹنگ آن لائن)ملکہ ترنم نور جہاں کا 53برس قبل گایا پنجابی نغمہ پرانی نسل سے تنگ بھارتی جین زی کے دلوں کی دھڑکن بن گیا۔

بھارتی میڈیاکی ایک رپورٹ کے مطابق یہ گانا جو تقریباً پانچ دہائیاں قبل ریکارڈ کیا گیا تھا، اب ونائل ریکارڈز یا ریڈیو کے بجائے انڈین نوجوانوں کے سمارٹ فونز پر راج کر رہا ہے، الگورتھم اور مختصر ویڈیوز کے اس دور میں جہاں رشتے بہت پیچیدہ اور بے یقینی کا شکار ہیں، نور جہاں کی آواز اور اس گیت کے گہرے لفظوں نے ایک نئی نسل کے دل جیت لیے ہیں۔اس گانے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسٹاگرام پر محض 43سیکنڈ کے ایک کلپ پر ایک لاکھ سے زیادہ ریلز بن چکی ہیں، پٹیالہ محفل نامی ایک گروپ کی جانب سے اس گانے کی ویڈیو پوسٹ کیے جانے کے بعد اسے کروڑوں بار دیکھا گیا جس نے اس شہکار کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کے نوجوان اس گانے کو اپنی جدید زندگی اور ڈیٹنگ کے مسائل سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ ایک انڈین انفلوئنسر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ نور جہاں جی نے لو بومبنگ اور گھوسٹنگ جیسے الفاظ کی بہت پہلے ہی وضاحت کر دی تھی۔گانے کے بول سانوں نہر والے پل تے بلا کے، تے خورے ماہی کتھے رہ گیا (ہمیں نہر والے پل پر بلا کر نہ جانے محبوب کہاں رہ گیا)آج کے دور کے اس المیے کی عکاسی کرتے ہیں جہاں کوئی میسج کا جواب نہیں دیتا یا وعدہ کر کے غائب ہو جاتا ہے۔

نوجوانوں کیلئے یہ گانا صرف موسیقی نہیں بلکہ ایک خاموش اور ٹھہرا ہوا جذبہ ہے، اس گانے میں موجود بے بسی اور انتظار کی کیفیت کو جنریشن زی اپنی سچویشن شپس اور ادھورے جذبوں کا عکس قرار دے رہی ہے۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یہ گانا پہلی مرتبہ 14ستمبر 1973کو ریلیز ہونے والی پاکستانی پنجابی فلم دکھ سجناں دے میں شامل کیا گیا تھا، سلیم اقبال کی موسیقی اور رف شیخ کے لکھے ہوئے یہ بول پنجاب کی ثقافت، دیہی مناظر اور چھپ کر ملنے والے عاشقوں کی کہانی بیان کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں