اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے پچاس ارب روپے کی بچت ہوتی ہے‘پنکھوں کے ذریعے سو واٹ بجلی استعمال کی جاتی ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنکھے تیس واٹ پر منتقل کئے جائیں ‘ انڈیا ‘ بنگلہ دیش‘ یو اے ای کی بجلی کی قیمتوں کے برابر ملک میں صنعتوں کو بجلی دینے کے لئے اقدامات کررہے ہیں تاکہ صنعتوں کا پہیہ چلایا جاسکے‘ آئی پی پیز کا مسئلہ خاموشی کیساتھ حل کرنے کی طرف گامزن ہیں۔ منگل کو یہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ ملک میں بجلی کا بدترین بحران تھا میاں نواز شریف کی حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوںنے ملک کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا۔
ہماری توجہ ہے کہ پن بجلی کے ذریعے بھی بجلی کی پیداوار کو بڑھایا جائے اور دیگر ذرائع کے ساتھ ساتھ آئی پی پیز کے ذریعے بھی بجلی حاصل کی تاکہ ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو پور اکیا جاسکے۔ جس وقت آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا اس وقت ڈالر کی قیمت سو روپے تھی اور فی یونٹ بجلی عوام کو دس روپے پڑرہی تھی۔ ملک میں معیشت صحیح ٹریک پر نہ ہونے کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے اب بجلی کی قیمت 44روپے فی یونٹ تک چلی گئی ہے جبکہ اس میں دیگر ٹیکسز بھی شامل ہیں۔ اویس لغاری نے کہا کہ کوشش کررہے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں کو کمی کی طرف لاسکیں اس وقت ہم تین درجوں میں عوام کو بجلی سپلائی کررہے ہیں سب سے کم دو سو یونٹ والوں کو دس روپے فی یونٹ باقیوں کو بیس روپے اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کو چالیس روپے فی یونٹ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چالیس روپے یونٹ والے نہ صرف اپنی بجلی کی قیمت ادا کرتے ہیں بلکہ وہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس بھرتے ہیں اور دس روپے یونٹ والوں کی بجلی کی قیمت بھی انہی کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ ملک میں دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے پچاس ارب روپے کی بچت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا پنکھوں کے ذریعے سو واٹ بجلی استعمال کی جاتی ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنکھے تیس واٹ پر منتقل کئے جائیں ۔ اویس لغاری نے کہا انڈیا ‘ بنگلہ دیش‘ یو اے ای کی بجلی کی قیمتوں کے برابر ملک میں صنعتوںکو بجلی دینے کے لئے اقدامات کررہے ہیں تاکہ صنعتوں کا پہیہ چلایا جاسکے ہم آئی پی پیز کا مسئلہ خاموشی کیساتھ حل کرنے کی طرف گامزن ہیں۔








