کاٹن مارکیٹ 148

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے روئی کے بھاؤ میں تیزی کا تسلسل جاری رہا

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل واسپنگ ملز کی جانب سے کوالٹی کاٹن کی خریداری جاری رہی جبکہ دوسری جانب جنرز بھی اونچے دام کی پھٹی رکھنے کے لئے تیار نہیں ہے جس کے باعث روئی کے بھاؤ میں تیزی کا تسلسل جاری ہے کاروباری حجم بھی تسلی بخش رہا۔ اس وقت ٹیکسٹائل و اسپنگ ملز کے مالکان جنرز اور کپاس کے کاشتکار سب خوش نظر آ رہے ہیں روئی پھٹی اور اسپاٹ ریٹ تیزی کی نئی بلندیاں سر کرتے جا رہے ہیں کوالٹی روئی کا بھاؤ 16700 Pri-M سے تجاوز کر گیا پھٹی کا بھاؤ بلوچستان میں 8200 روپے سے تجاوز کر گیا جبکہ کاٹن ایسوسی ایشن کا اسپاٹ ریٹ 15900 روپے کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھاؤ بھی اتار چڑھاؤ کے بعد مجموعی طور پر فی پانڈ 1.18 امریکن سینٹ پر پہنچ گیا بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں بھی روئی کے بھا ؤمیں تیزی کا تسلسل جاری رہا خصوصی طور پر بھارت کی روئی کا بھاؤ فی کینڈی (356 کلو) کا بھا 67000 کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔مقامی طور پر ڈالر کے نسبت روپے کی نمایاں مضبوطی کے باوجود روئی کے بھاؤ میں کمی نہ آسکی ڈالر کے بھاؤ میں مزید گراوٹ ہونے کی صورت میں ٹیکسٹائل ملز کے بڑے گروپ روئی کی درآمد پر مائل ہوجائیں گے لیکن ڈالر اور نیویارک کاٹن کے بھا میں غیرمعمولی اتار چڑھا کی وجہ سے نہ صرف ٹیکسٹائل اسپنر بلکہ ٹیکسٹائل ویلیو ایڈڈ سیکٹر بھی معاہدے کرنے سے ڈر رہے ہیں اور محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔

بہرحال ملک میں روئی کی پیداوار ضرورت کے نسبت بہت کم ہونے کی وجہ سے بیرون ممالک سے وافر مقدار میں روئی درآمدد کرنی پڑے گی اسی طرح ویلیو ایڈڈ سیکٹر کو بھی ناچار ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد کرنی پڑے گی اس طرح دونوں فریق کچھ حد تک خوف محسوس کر رہے ہیں۔ٹیکسٹائل و اسپننگ سیکٹر کی جانب سے ایسی حوصلہ افزا خبریں آ رہی ہے کہ آئندہ سالوں میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو خاطرخواہ وسعت ملنے والی ہے جس کے باعث روئی کی کھپت میں خاصا اضافہ ہوگا لیکن ملک میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی غرض سے ٹیکسٹائل اور نجی سیکٹر حکومت پر تکیہ لگائے ہوئے ہیں حالانکہ کپاس ٹیکسٹائل سیکٹر کا اہم خام مال ہے بین الاقوامی طور پر روئی کے بھا میں تیزی کا عنصر غالب رہنے کی صورت میں انڈسٹری پر منفی اثرات مرتب ہونے کے امکان ہے .

اس لئے ٹیکسٹائل سیکٹر کو اس معاملے پر گھمبیر طور پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے ٹیکسٹائل سیکٹر کب تک بیرونی ممالک کی درآمد شدہ روئی کی بے ساکیوں پر چلتا رہے گا جبکہ ملک میں روئی کی پیداوار بڑھانے کی استطاعت ہے اور کئی سال ہم نے روئی کی وافر مقدار میں پیداوار کی ہے ایک دو مرتبہ تو ایک کروڑ 47 تا 48 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار بھی کر چکے ہیں حکومت کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل سیکٹر APTMA اور نجی شعبہ بھی اپنی بقا کے لیے روئی کی پیداوار بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالے لیکن یہ جان کر افسوس ہوا کہ APTMA کاٹن کی ریسرچ کے لیے مقرر کیا ہوا CESS TAX بھی ادا نہیں کر رہا PCRI کے ذرائع کے کہنے کے مطابق فنڈ کی شدید کمی کے باعث ادارہ کسمپرسی کے حالات سے دوچار ہے ان کے کہنے کے مطابق ٹیکسٹائل ملز پر فی گانٹھ 50 روپے کا CESS TAX لاگو کیا ہوا ہے جس کی گزشتہ 2017 سے ادائیگی نہیں کی گئی اس طرح APTMA پر فی الحال CESS TAX کی مد میں 2 ارب 80 کروڑ روپے واجب الادا ہے مالی زبوں حالی کے سبب کئی سالوں سے اسٹاف کی نئی بھرتیاں بھی نہیں کی جا سکی ان کے کہنے کے مطابق ادارے کو 750 کے اسٹاف کی ضرورت ہے لیکن فی الحال 266 سے کام لیا جا رہا ہے بلکہ فنڈ کی شدید کمی کی وجہ سے کئی مہینوں تک اسٹاف تقریبا آدھی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہے ایسی صورتحال میں ریسرچ کا کام کرنا تقریبا ناممکن ہے اس کے باوجود ادارے نے آئندہ سیزن کے لیے کپاس کی 6 نئی ورائٹی تیار کی ہوئی ہے۔

یہ خوش آئند بات ہے کہ ذرائع کے کہنے کے مطابق APTMA کے نئے چیئرمین عبدالرحیم ناصر نے CESS TAX کی قسطوں میں ادائیگی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ کوالٹی کے حساب سے فی من 12500 تا 16700 روپے رہا پھٹی کا بھا ؤفی 40 کلو 4500 تا 7000 روپے جبکہ بنولہ کا بھا ؤفی من 1350 تا 2000 روپے صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ 14400 تا 16500 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 5800 تا 7500 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1550 تا 2100 روپے جبکہ صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 13700 تا 16000 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو سب سے زیادہ 6200 تا 8200 روپے رہا بنولہ کا بھاؤ فی من 1600 تا 2200 روپے رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 500 روپے کا اضافہ کر کے اسپاٹ ریٹ فی من 15900 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں مجموعی طورپر تیزی کا عنصر غالب رہا نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھا اتار چڑھا کے بعد فی پانڈ 1.18 امریکن سینٹ کو چھو کر 1.16 امریکن سینٹ پر بند ہوا۔ USDA کی کاٹن کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ میں ایک لاکھ 39 ہزار 100 گانٹھوں کی فروخت ہوئی جو گزشتہ ہفتے کی فروخت کی نسبت 61 فیصد کم رہی اس بار بھی چین 44 ہزار 800 گانٹھیں خرید کر سرفہرست رہا بھارت 24 ہزار 300 گانٹھیں خرید کر دوسرے نمبر پر رہا جبکہ ترکی 23 ہزار 700 گانٹھیں خرید کر تیسرے نمبر پر رہا جبکہ ایک لاکھ 41 ہزار 900 گانٹھوں کے برآمدی معاہدے ہوئے جو گزشتہ ہفتے کی برآمد کی نسبت 42 فیصد زیادہ ہے برآمد میں بھی چین 61 ہزار 100 گانٹھیں خرید کر پہلے نمبر پر برقرار رہا میکسیکو 24 ہزار 400 گانٹھیں درآمد کرکے دوسرے نمبر پر اور پاکستان 13 ہزار 100 گانٹھیں درآمد کر کے تیسرے نمبر پر رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں