خواجہ آصف 35

معاملات طے کرنے والے بانی پی ٹی آئی سے ہی معاملات طے کریں گے، خواجہ آصف

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ معاملات طے کرنے والے بانی پی ٹی آئی سے ہی معاملات طے کریں گے، مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں،خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی بنی ہوئی ہے، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا اگر فیصلہ ہوا تو یہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے، آئین میں گورنرراج کی گنجائش ہے اس کے استعمال پر تحفظات ہیں۔

ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے عندیہ دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے سے ہی معاملات طے کیے جائیں گے، انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی محمود اچکزئی، ناصر عباس کے ذریعے مذاکرات چاہتی ہے۔وزیردفاع نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے کچھ سیاہ قسم کے ارادے ہیں، محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دینے میں بھی بدنیتی ہے، کل پھر یہ کہیں گے ہمارا تو ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ کسی پارٹی پر پابندی اور گورنر راج نہیں لگنا چاہیے ، آئین میں گورنرراج کی گنجائش ہے اس کے استعمال پر تحفظات ہیں۔تحریک انصاف کو اپنی شناخت برقرار رکھنی چاہیے،بانی پی ٹی آئی، جنرل (ر)باجوہ اور فیض حمید ہمیں طالبان بسانے کے حوالے سے بریفنگز دیں۔

ونڈر بوائے سے متعلق بات پر تردیدی بیان آ گیا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی اور اتحاد میں شامل تمام جماعتیں مذاکرات میں شامل ہونی چاہیے، پی ٹی آئی مستقبل میں مذاکرات سے اظہار لاتعلقی کرسکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ کے پی حکومت کسی بھی آپریشن کا حصہ بننے سے گریز کررہی ہے، خیبر پختونخوا حکومت وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہی ہے۔وزیردفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی، کے پی حکومت ساتھ کھڑی ہو تو آپریشن کے مقاصد جلد حاصل ہوسکتے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آرنے پریس کانفرنس میں جو باتیں کیں وہ سب حقائق پر مبنی ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا دہشتگردی کے حوالے سے رویہ مناسب نہیں، یہ کہنا کہ ہم آپریشن نہیں ہونے دیں گے یہ دہشتگردوں کی حمایت کرنے کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپریشن نہ ہونے دینا سے مراد زیادتی روکنے والے کے بجائے زیادتی کرنے والے کا ساتھ دینا ہے،جب افواج جنگ لڑ رہی ہیں تو پھر سیاسی مصلحتوں کا شکار نہیں ہوتے ،یہ ملک ہم سب کا ہے، اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے، دشمن چاہے بھارت ہو یا دہشتگرد سلوک وہی ہو گا جو دہشتگردوں کیساتھ ہوتا ہے۔ گھر کے اندر سے آوازیں آ رہی ہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے تو پھر اور کیا حل ہے؟۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کیلئے ہم نے ہر ممکن کوشش کی،امن قائم کرنے کیلئے ہم نے براہ راست کابل حکومت سے بھی بات کی،آج بھی دوست ممالک ثالثی کا کردار نبھائیں تو ہم ابھی بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔دری اثنا وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یہ صاحب (شفیع جان) واضح طور پہ ٹی ٹی پی کو من حیث الجماعت دہشت گرد کہنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ یہ صاحب ٹی ٹی پی کو ایک دہشت گرد جماعت کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ کوئی بھی شخص جو سمجھتا ہے کہ ٹی ٹی پی کی صفوں میں دہشت گردوں کے علاوہ محب وطن پاکستانی بھی ہیں آپ ان کو کیا شناخت کریں گے۔ٹی ٹی پی کے فتنہ کے ہاتھوں ہمارے شہید جوانوں کی میتیں بھی محفوظ نہیں یہ ان کی بھی بے حرمتی کرتے ہیں۔

کارگل کی لڑائی میں ہمارے جو جوان دشمن کی صفوں میں جا کر لڑتے شہید ہوئے تھے ان کی میتیں ہمارے دشمن نے فوجی اعزاز کے ساتھ واپس کی تھیں۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ یہ صاحب واضح طور پہ ٹی ٹی پی کو من حیث الجماعت دہشت گرد کہنے کو تیار نہیں۔یہ کون لوگ ہیں جو اپنے اقتدار اور جماعتی مفاد کو وطن پہ ترجیح دے رہے ہیں ۔ 25 کروڑ پاکستانیوں کے سو اختلاف ہو دوست دشمن مشترک ہیں اور مشترک رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں