لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان تصادم نہ صرف خطے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، موجودہ مشرقی وسطیٰ کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ مسلم حکمران ہوش کے ناخن لیں اور کفر کی سازشوں کو بروقت سمجھتے ہوئے ان کا راستہ روکیں۔ بیرونی قوتیں سلامتی اور امن کے نام پر مسلم ممالک میں مداخلت کر کے دراصل انتشار اور بدامنی کو فروغ دے رہی ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کو آپس میں لڑانا اور کمزور کرنا ہے۔
ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے لاہور میں افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ ایران کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں میں ملوث نہ ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان حملوں کے پیچھے بیرونی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ یہ کارروائیاں سی آئی اے اور موساد جیسی ایجنسیوں کی سازش معلوم ہوتی ہیں، جو مسلم دنیا میں اختلافات کو ہوا دینے کے لیے سرگرم ہیں۔انہوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس نازک صورتحال میں ایک مثبت، متوازن اور مثالی کردار ادا کرے۔ پاکستان ایک اہم اسلامی ملک ہونے کے ناطے امت کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے امت مسلمہ کے مفادات کا تحفظ کرے اور ایسے تمام اقدامات سے دور رہے جو مسلم ممالک کے درمیان فاصلے بڑھانے کا سبب بنیں۔
محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ نام نہاد عالمی امن منصوبے بالخصوص غزہ پیس بورڑ درحقیقت مسلمانوں کے خلاف سازش ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان فوری طور پر ایسے تمام فورمز اور منصوبوں سے علیحدگی اختیار کرے جو بظاہر امن کے نام پر پیش کیے جا رہے ہیں مگر درحقیقت امت کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور مشترکہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں۔آخر میں انہوں نے ملک کے اندر مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 39 روپے 20 پیسے اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔









