لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن)اور اتحادیوں نے پنجاب کی صورتحال پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار اور اسے چیلنج کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہگزارش ہے کہ پنجاب کے معاملے پر عدالتی فیصلے پر نظر ثانی یا سو موٹونوٹس لیا جائے ،کرپشن کی روک تھام کے لئے پنجاب حکومت کو ڈے ٹو ڈے بزنس تک محدود کیا جائے ، بد قسمتی سے پاکستا ن میںنظریہ ضرورت کبھی بھی دفن نہیں ہوتا ،جب تک اس کی تدفین نہیں ہوتی ،پسند اور نا پسند کا نظام ختم نہیں ہوت اس ملک میں انصاف نہیں مل سکتا،عمران خان اورسہولت کاروں نے جو تباہی کی وہ ختم نہیں ہوئی ، ہم اس کو ریورس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،پنجاب میں جو اقلیت میں چلے گئے ہیں انہیں کیسے اجازت دی جا سکتی کہ وہ آئین پر عملدرآمد نہ کریں ،
عمران خان ، ا س کے ساتھی اور سہولت کار چاہتے ہیں پاکستان آگے نہ بڑھے اوربار بار جمہوری نظام پر حملے کرتے ہیں،ہم تب تک جنرلز اور ججز کو الزام نہیں دے سکتے جب تک ہم آلہ کار نہیں بنتے ،عمران خان آلہ کار بنا ، سیاسی جماعتوںنے ماضی میں جو غلطیاں کیں وہ تو اس سے تائب ہو چکی تھیں،اب بھی عمران خان چاہتا ہے کہ کسی طریقے سے اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ملوث ہو اور اسے اقتدار کے تخت پر بٹھا دے ، یہ کھلم کھلا بات کرتا ہے اس کو شرم نہیں آتی ،ملک کے ساتھ بہت ہو گیاہے، یہ جو کھیل شروع ہوا ہے یہ گندی سیاست ہے ہم اس میں نہیںجانا چاہتے،اعتماد کا ووٹ لیں اور پنجاب اسمبلی تحلیل کر دیں ، آج یہ اپنے لوگوں کو دو ، دو ارب روپے کی پیشکش کر رہے ہیں ، انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے،یہ جس اسمبلی کو تحلیل کریں گے وہاں پر انتخابات کر ادیں گے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزراءخواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ خان نے پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاﺅن میں اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ، عطا اللہ تارڑ ،عظمیٰ بخاری، رانا ارشد سمیت دیگر بھی موجود تھے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا یہ موقف رہا کہ منتخب اداروں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے ، ہم آئینی تبدیلی کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو نکال کر وفاقی حکومت میں آئے تھے اور اس کے لئے آئینی پراسس کو فالو کیا گیا۔
اتحادیوںنے ایک ایسے موقع پر حکومت سنبھالی تھی جب ملک دیوالیہ ہونے کے کنارے پر کھڑا تھا،عمران خان کی پونے چار سال کی حکومت کی پالیسیوںنے پاکستانکو ڈیفالٹ اور فالٹ دونوں لائنزپرکھڑا کر دیا تھا،ان کے سارے گناہوںاور خرابیوں کا بوجھ ہم نے اٹھایا، ہم نے اپنی سیاست داﺅ پر لگائی لیکن ریاست اک دفاع کیا ،شہباز شریف کی قیادت میں ملک کو خطرناک صورتحال سے واپس لائے ، وہ دن گیا آج کا دن آیا ہے عمران خان ، تحریک انصاف اور ان کے سہولت کاروں نے ہمیں کام نہیں کرنے دیا ، یہ کبھی راستے میں سرنگیں بچھاتے ہیں، کبھی گڑھے اورکہیں کھائیاں کھودتے ہیں اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیں، اس کی سب سے کلاسیکل مثال شوکت ترین کی صوبائی وزراءخزانہ کو ٹیلیفون کال ہے جو پوری قوم نے سنی ، وہ کہہ رہے ہیں اپ نے آئی ایم ایف کو لکھنا ہے کہ وفاقی حکومت جوبات کر رہی ہے ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے تاکہ نہ آئی ایم ایف کا تالہ کھلے اورمالیاتی ادارے پاکستان کی مدد کریں اور پاکستان ڈیفالٹ کرجائے ۔
عمران خان نے شور مچایا ہوا تھاکہ اسمبلیاں ٹوٹنی چاہئیں اورقبل از وقت انتخابات ہونے چاہئیں،اسمبلیاں توڑنا بچوں کا کھیل نہیں ، یہ کھلونا نہیںہے کہ کہ جب دل چاہا بنا لیا اور جب دل چاہا توڑ دیا ، صورتحال یہ ہے کہ جب گورنر نے محسوس کیا کہ وزیر اعلیٰ کواعتماد کا ووٹ لینا چاہیے انہوںنے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کی اور انہیں اعتماد کے ووٹ کا کہا گیا لیکن انہوںنے اس سے گریز کیا، ان کو اس کے لئے باقاعدہ وقت دیا گیا ،پرویز الٰہی کے پاس اکثریت نہیں اور جس کے پاس اکثریت نہیںوہ قائد ایوان نہیں ہوسکتا اور یہ ہم نہیں آئین کہتا ہے ۔ آئینی آرڈر کو نہیں مانا گیا جس پر گورنر نے اپنے قانونی و آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیںڈی نوٹیفائی کیا ۔اسے ہائیکورت میںچیلنج کیا گیا اور جو فیصلہ آیا ہے اس میں خلاءہے اور ہم سمجھتے ہیں یہ انصاف کے تقاضے پورے نہیںکرتا ۔ ہم ادب سے گزارش کرتے ہیں کوئی فرد یا ادارہ آئین سے رو گردانی نہیںکر سکتا ، قائد ایوان وہی ہوگا جس کو ایوان کی اکثریت حاصل ہوگی ۔اس فیصلے میں ان کو 18دن دئیے گئے ہیں،خدا نہ کرے ان دنوںمیں ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ موجود ہے ،دوسری پارٹی کی طرف سے منڈی لگ سکتی ہے کیونکہ ان کے پاس اکثریت نہیں ،اگر اکثریت ہوتی تو وہ اعتماد کا ووٹ لے لیتے ، ہم نے اپنے موقف کا دفاع بھی کیاکہ ان کو کوئی ٹائم دیدیں اور یہ اعتماد کا ووٹ لیں جو انہیں لینا پڑے گا لیکن عدالت کے فیصلے میں گنجائش چھوڑ ی گئی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اعتماد کا ووٹ لیں ۔ ہمارے قانونی وآئینی ماہرین سمجھتے ہیں اس میں کوئی گنجائش نہیں ۔
انہوںنے کہا کہ ہماری میٹنگ ہوئی ہے اور امکان ہے کہ ہم اس فیصلے کو چیلنج کریں گے ۔ہم چاہتے ہیں پنجاب میں ہارس ٹریڈنگ نہ ہو اور اسمبلی اپنا کام کریں ۔ یہ امر اطمینان کا باعث ہے کہ فی الوقت اسمبلی ٹوٹنے کا خطرہ ٹل گیا ہے اور عمران خان کی جو بڑھک تھی وہ ہوا میں تحلیل ہو گئی ہے ۔ اگر عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں بہت سنجیدہ ہوتے تو الٹی میٹم دینے کی بجائے اسمبلیاںتڑوا دیتے ہیں، آپ خیبر پختوانخواہ کی اسمبلی توڑ سکتے ہیں لیکن آپ کا بھاڑہ خرچہ کون اٹھائے گا ، پنجاب میں نزلہ عوام پر گرایا جانا تھا جس کا ہم نے دفاع کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ عدالتی فیصلے میں قانونی خلاءہے جس کو رسپانڈ کیا جانا ضروری ہے ، آج پنجاب میں منتخب حکومت نہیں ہے اور حکم امتناعی پر قائم ہے ، آج یہ ترقیاتی بجٹ کے کے نام پر اربوں روپے لٹا رہے ہیں ۔انہیں اعتماد کا ووٹ لینا ہے وہ نہیں لیں گے تو بات بالکل واضح ہے کہ موجودہ پنجاب حکومت کو اکثریت حاصل نہیں ہے ،یہ حکم امتناعی کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔
انہوںنے کہاکہ آئین پاکستان میں واضح بتا دیا گیا ہے جس کے پاس اکثریت ہوگی وہی حکومت کرے گا۔ مرکز میںصدر اور صوبوں میں اگر گورنر ز یہ محسوس کریں کہ کوئی قائد ایوان اکثریت کھو گیا ہے تو اسے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں ۔ پنجاب میں واضح طور پر آئین سے رو گردانی کی گئی ہے اورآئین شکنی ، پنجاب میں سپیکر نے بالکل اسی طرح کیا ہے جس طرح ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے کیا تھا۔خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ بد قسمتی سے پاکستا ن میںنظریہ صرورت کبھی بھی دفن نہیں ہوا ،جب تک اس کی تدفین نہیں ہوتی ،پسند اور نا پسند کا نظام ختم نہیں ہو اس ملک میں انصاف نہیں مل سکتا۔آج پھر جوڑ توڑ کی سیاست شروع ہو گئی ہے یہ ہم نے شروع نہیں کی بلکہ یہ عمران خان نے ایک فتنے کے طور پر کی ہے ۔
آج ملک میں دہشگردی سر اٹھا رہی ہے، اس کے خلاف جنگ لڑنی ہے ،اصل جنگ غربت کے ساتھ ہے ، یہ معاشی تباہی کر گئے ہے اس کی بحالی کی جنگ ہے ، ہم ملک کے لئے کام کرنے لگتے ہیں لیکن یہ کام کرنے نہیںدیتے ۔ آپ کی دو صوبائی اوردو ریاستی حکومتیں موجود ہیں وہاں کیوں ڈلیور نہیں کرتے ،عمران خان اپوزیشن میں نہیں، ملک میں اس وقت کوئی اپوزیشن نہیں بلکہ سارے کسی نہ کسی طرح حکومتوں میںموجود ہیں ، سب اپنا اپنا کام کریں اورڈلیور کریں اور لوگوںکے دکھوں اوردرد کا مداوا کریں ۔انہوںنے کہاکہ آپ بار بار حملہ کرو اور ہم برداشت کریں ،آپ ہمیں دیوار میں لگائیں ، اس کی اجازت نہیں دیں گے، ہم گونگے نہیں ہےں ہم بات کریں گے،ہم نے بولنے کی پہلے بھی قیمت ادا کی ہے ، جتنی قیمت ادا کی جا سکتی ہے کی ہے۔ تمام ریاستی اداروں کو آئین کے تابع رہنا چاہیے ، ادارے کام کررہے ہیں افراد مسائل کھڑے کرتے ہیں ، عمران خان کے سہولت کاروں نے جو تباہی کی وہ ختم نہیں ہوئی ، ہم اس کو ریورس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوںنے کہاکہ پنجاب میں جو اقلیت میں چلے گئے ہیں انہیں کیسے اجازت دی جا سکتی کہ وہ آئین پر عملدرآمد نہ کریں ۔ہمارے قانونی و آئینی ماہرین بیٹھے ہوئے ہیں،جائزہ لے رہے یں کہ عدالت عظمیٰ میں جانے کا کون سا آپشن موجود ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں جمہوریت چل گئی تھی ، جب پیپلزپارٹی نے مدت پوری کر رہی تھی تو نواز شریف کو کہا گیا کہ لانگ مارچ کریں ان کی حکومت کو گرائیں لیکن نواز شریف نے کہاکہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور یہ اوپن سیکرٹ ہے ۔ہم نے پانچ سال اپوزیشن میں گزارے ،ان کی حکومت پوری ہوئی تو ہم جمہوری طریقے سے آ گئے ۔پھر دھرنے آئے ،پیپلزپارٹی نے کہا کہ دھرنوں سے حکومت نہیںگرے گی ، ہم نے ایکد وسرے کا لحاظ کیا ۔
دسواں سال پورا ہونے جارہا تھا کہ پھر نقب لگائی گئی ، یہ سازش2014میں سازش تیار ہو چکی تھی ، اس کے پیچھے عمران خان کا چہرہ تھا ،پراجیکٹ عمران تھا جس نے پاکستان کو تباہ کیا جمہوریت کو کمزور کیا ۔ انہوںنے کہاکہ سب سے بڑی ذمہ داری سیاستدانوں کی ہے ہم تب تک جنرلز اور ججز کو الزام نہیں دے سکتے جب تک ہم آلہ کار نہیں بنتے ،عمران خان آلہ کار بنا ، سیاسی جماعتوںنے ماضی میں جو غلطیاں کیں وہ تو اس سے تائب ہو چکی تھیں۔اب بھی عمران خان چاہتا ہے کہ کسی طریقے سے اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ملوث ہو اور اسے اقتدار کے تخت پر بٹھا دے ، یہ کھلم کھلا بات کرتا ہے اس کو شرم نہیں آتی اس کو شرم آنی چاہیے ،ملک کے ساتھ بہت ہو گیاہے، یہ جو کھیل شروع ہوا ہے یہ گندی سیاست ہے ہم اس میں نہیںجانا چاہتے ۔
ادارے نے کہہ دیا ہے کہ وہ اے پولیٹیکل ہے ۔ اسمبلی کو چلنے دیں ، عمران خان آپ کو جلدی کس بات کی ہے کیوں گندی گیم کر رہے ہوکہ آپ کو جواب دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کے عوام پاکستان کے لوگ اور ریاستی ادارے ، سول سوسائٹی سن رہے ہیں دیکھ رہے ہیں میںیہ کہنا چاہتا ہوں یہ کھیل شروع کس نے کیا ہے ،ہم تو پنجاب اور خیبر پختوانخواہ اسمبلیوں کو کچھ بھی نہیں کہہ رہے تھے ،آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ہم تو وفاق میں رہ کر جو معاشی تباہی ہے اس میں لگے ہوئے ہیں کسی طرح واپسی ہو جائے ، سیلاب آ جائے نہ پنجاب نہ خیبر پختوانخوان کو وفاق سے تعاون کی اجازت ملی ، عمران خان کے پیٹ میں کیوں بار بار مروڑ اٹھتاہے ، کونس سی چیز ہے جو انہیںسکون نہیں لیتی ، آپ کی حکومتیں ہیںخدمت کریں ،پنجاب میں جوڑ توڑ کا کھیل انہوںنے شروع کرایا ہے ، اس کا دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ عمران خان ، ا س کے ساتھی اور سہولت کار چاہتے ہیں پاکستان آگے نہ بڑھے اوربار بار جمہوری نظام پر حملے کرتے ہیں۔
پنجاب کے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ تین چیزوں کا عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ہم یہ کام کرنے جارہے ہیں، پنجاب اسمبلی ، خیبر پختوانخواہ اسمبلی کو توڑیں گے،ہم قومی اسمبلی میں پیش ہو کر اپنے استعفے ٹینڈر کریں گے جنہیں قبول کیا جائے ۔ پنجاب میں گورنر نے آپ سے کہا کہ آپ اسمبلی توڑنے سے پہلے اعتماد کاووٹ لیں ، یہ ان کی آئینی ذمہ داری اورفرض تھا ،ایک ایساوزیر اعلیٰ جو ایک ہی سانس میں کہتا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے 99اراکین اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں اوراسی سانس میں کہہ رہا ہے میں سمری پر دستخط کر کے دے آیا ہوں ۔ اسمبلیاں آئینی ادارے ہیں یہ جمہوریت کی اساس ہیں ، ایک آدمی کہتا ہے کہ ممبران کی 99فیصد تعداد اسمبلی توڑنے کی حق میں نہیں ہے لیکن اسمبلی کو کسی کی ضد ،انا اورگھٹیا سیاست کی نظر کیا جارہا ہے ،آئینی اتھارٹی ہے جو گورنر ہے ان کا فرض بنتا ہے کہ اگر آپ نے آئینی ادارے کا مذاق اڑانا ہے تو آپ اعتماد کاووٹ لیں ۔
آپ نے اعتماد کا ووٹ نہیںلیا اورگریزاں ہوئے ، کس کو نہیںمعلوم کہ سپیکر نے کیوں اجلاس کیوںنہیں بلایا،سپیکر کا کیا جھگڑ اچل رہا تھا ،اس لئے ان کے پاس اکثریت نہیں ہے ، گورنر کا جو آئینی حق تھا انہوںنے اسے ایکسر سائز کیا ۔ ہائیکورٹ نے فیصلہ کیا ہے لیکن کبھی ایسا فیصلہ نہیں ہوا کہ عبوری ریلیف میں الٹی میٹ ریلیف دیدیں ، ہم بھی قانون کے طالبعلم ہیں کبھی عدالتیں اس طرح نہیں کرتیںالٹی میٹ ریلیف مانگیں تو عبوری ریلیف دیدیا جائے، انہوںنے تو کہا تھاکہ ہمیں بحال کیا جائے ، عبوری ریلیف دیدیا گیا ،اس میںقانونی آئینی اور فنانشل پیچیدگیاں ہیں جس سے ملک اور پنجاب بڑی بری طرح سے متاثر ہوگا۔دو روز پہلے ایک ایسا آرڈر کیا گیا کہ پورے پنجاب میں خاص طور پر لاہور میں گرین اور براﺅن ایریاز کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا اور باپ ،بیٹے نے اربوں روپے کی دیہاڑی لگائی ہے،18دن ہیں اورایک ایک دن پنجاب کے خزانے پر بھاری گزرے گا ،ان دنوں میں اراکین کو موقع دیا جائے گا کہ جو ڈیڑھ ڈیڑھ ارب کے فنڈز دئیے ہیں ٹھیکیداروں سے کہیں گے جاﺅ کمیشن لے کر اپنی جیبوں میں ڈالو ، اس سے ہارس ٹریڈنگ اور کرپشن کا بازار گرم ہوگا،اگر ہائیکورٹ نے عبوری ریلیف دینا تھا توآرٹیکل 133موجود ہے ان کو محددد کر کے اجازت دیتے ، اتحادی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کو اس میں مداخلت کرنی چاہیے اورسو موٹو نوٹس لیں ،پنجاب کو اس معاشی اور اس کرپشن کی تباہی سے بچائیں ، ان کو ڈے ٹو ڈے بزنس تک محدود کریں ۔ حکم امتناعی پر اختیارات دینا پنجاب کی عوام سے ظلم کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آپ کو روکا نہیں ہے ، اگر آپ اعتماد کاووٹ لینا چاہیے تو لے لیں صبح اعتماد کا ووٹ لے لیں معاملہ ختم ہو جائے لیکن ان کے پاس نمبرز پورے نہیں ہیں ،18دنوں بعد ہوں یا 28دنوں بعد یہ اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکیں گے اس لئے گریزاں ہیں،چلیں پنجاب میں تو ایشو بن گیا ، خیبرپختوانخواہ اسمبلی توڑی گئی ،قومی اسمبلی میں پیش ہونا تھا کیوں نہیں پیش ہوئے۔
ایک ٹولہ عمران خان کی شکل میں گمراہی کا شکار ہے ، یہ ملک دشمن ایجنڈے پر گامزن ہیں ،ملک میں فتنہ اور فساد چاہتے ہیں،سیاسی عدم استحکام چاہتے ہیں اس لئے چاہتے ہیں کہ ملک میں معاشی عد استحکام ہوا ورملک معاشی طور پر حادثے سے دوچار ہو اور اس طرح سے ملک کا نقصان ہو۔ اتحادی حکومت نے ملک کے بہترین مفاد میں مشکلات سے نمٹنے کا فیصلہ کیا اور یہ ہم نے اپنے سیاسی مفادات کے خلاف کیا ، اگر نگراں حکومت کے سپرد کرکے چلے جاتے تو 45دن میں ملک ڈیفالٹ کر جاتا، ہم نے ملک کوسنبھالا ہے ڈیفالٹ سے بچایا ہے ، آج ہم معاشی استحکام کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں ، شہباز شریف نے دن رات اپنے آپ کو اس کےلئے وقف کیا ہوا ہے ،یہ آئے دن کوئی نہ کوئی رخنہ ڈال رہے ہیں،سازش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ملک عدم استحکام کا شکار ہو ۔ انہوںنے کہاکہ ہماری عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ سے گزارش ہے کہ پنجاب کے معاملے پر عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کریں اور سو موٹو نوٹس لیں ،انہیںڈے ٹو ڈے بزنس تک امحدود کریں ، ان کی کرپشن اور لوٹ مار پر قدغن لگائیں نہیں تو یہ اٹھارہ دنوںمیں عوام کی جیبیں کاٹیں گے۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کی صورت میں ٹولہ ملک دشمن کارروائیوں میں مصروف ہے ،عوام کو اس کا ادراک اور شناخت کرنی چاہیے ، یہ ملک کو کسی حادثے سے دوچار کر سکتا ہے ، ہم اس کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں ہم الیکشن سے کوئی فرار نہیں چاہتے ، اتحادیوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں اور اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے ۔
انہوںنے کہاکہ یہ اپنا کام دکھاتے ،اعتماد کا ووٹ حاصل کر کے اسمبلیاں توڑتے ہیں ، یہ جو اسمبلی توڑیں گے وہاں الیکشن ہو جائے گا۔ ہم نے پنجاب میں الیکشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور حلقہ وائز امیدواروں کو حتمی شکل دے رہے ہیں ۔ علماءونگ کی میٹنگ اسی سلسلے کی کڑی ہے اور ہم پوری طرح سے تیار ہیں ،اگر انہوںنے اسمبلی سے مذاق کرنا ہے اسے توڑنا ہے تو اعتماد کا ووٹ لیں توڑیں ہم انکا بھرپور طریقے سے مقابلہ کریں گے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم کسی طور پر بھی ہارس ٹریڈنگ میں شریک نہیں ہوں گے ، اعتماد کے ووٹ کےلئے اپنے بندوں کو انہوںنے لے کر جانا ہے ، یہ اپنے بندوں کولالچ دے کر فنڈز دے کر پیسے دے کر اس بات پر راضی کر رہے ہیں کہ ان کا ساتھ دیں ، خود پرویز الٰہی نے کہا کہ ہم تو نہیں کہہ رہے ،99فیصد لوگ اس حق میں نہیں کہ اسمبلیاں توڑی جائیں ۔
اس وقت آئینی و قانونی پوزیشن ہے کہ ہمارا کوئی بندہ نہیں اگر اس طرف جائے گا تو ڈی سٹ ہو جائے گا کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان فیلڈ ہے ، انہوںنے اپنے ہی بندوں میں سے ہی 186پورے کرنے ہیں ، نہ ہم ان کا کوئی بندہ لے جا سکتے ہیں اور نہ یہ ہمارا لے جا سکتے ہیں۔ یہ اپنے لوگوںکو دو ، دو ارب روپے کی پیشکش کر رہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ خیبر پختوانخواہ حکومت چھ ،سات سے غائب ہے ، یہ کبھی راولپنڈی میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کرنے میں لگی ہوئی ہے کبھی لانگ مارچ کے لئے لوگوںکو اکٹھی ہوتی ہے اور کبھی کسی ریلی میں ہوتی ہے ، آج کل زمان پارک میں بیٹھی ہوئی ہے، سی ٹی ڈی کا یہ حال ہے انہیں کئی ماہ کی تنخواہ نہیں ملیں، پولیس وہاںپر دفاع نہیں کر پا رہی اور خطرناک صورتحال ہے جو پورے ملک کو متاثر کر رہی ہے ، انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں اور یہ سیاسی لڑائی میںپڑے ہوئے ہیں ، کبھی اسلام آباد میں حملہ کرنے کے لئے اسلحہ اکٹھا کر رہے ہیں، ذاتی سیاست اورحوس اقتدار سے آگے نہ دیکھ رہے نہ سوچ رہے ہیں ،ملک کو نقصان پہنچانے کے لئے تھرڈ ڈگری ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ سیاسی طور پر اورمعاشی طور پر ملک استحکام نہ پائے ۔
وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہاکہ ہم نے میٹنگ میں عدالتی فیصلے کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا ہے کہ کس طرح دیگر فورمز ہے اپروچ کرنا ہے ۔ میری یہاں آنے سے پہلے چوہدری شجاعت حسین سے بات کی تھی، انہوںنے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اسمبلیوں سے مذاق بند ہونا چاہیے ،عوام کے مینڈیٹ سے مذاق نہیں ہونا چاہیے ۔ پنجاب میں حکمران جو کر رہے ہیں اس میں ان کا کوئی کمال نہیں ہے ، ان کے پاس اکثریت نہیں ہے ،پی ٹی آئی کے اراکین غائب ہیں ،وہ لوگ سمجھتے ہیں اسمبلی توڑ کر اگر ایک سال پہلے گھروں میں چلے جائیں تو پتہ نہیں دوبارہ منتخب ہونا ہے یا نہیں۔اتحادی اچھے فیصلے کریں گے تاکہ پنجاب کی نمائندگی بہتر انداز میں ہو ۔انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ (ق) کے پنجاب میں اراکین ہیں ، ان میں سے پانچ ،چھ عزیز و اقارب ہیں ، جب عدم اعتماد کا ووٹ ہوگا تو فیصلہ عیاں ہوگا کہ کتنے شجاعت حسین کے زیر اثر ثابت ہوں گے ۔اس وقت وہ حکومت میں ہیں اورجس طریقے سے ڈویلپمنٹ کے لئے وسائل مہیا کئے جارہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ ہم پر امید ہیں ، لوگ شجاعت حسین سے رابطوں میں آرے ہیں اور بہتر ہوگا ۔
٭٭٭٭٭









