محکمہ ایکسائز 143

محکمہ ایکسائز فیصل آباد میں کرپشن کا نیا اسکینڈل، جعلی حاضری، بوگس ٹائپنگ ٹیسٹ اور مبینہ رشوت کے چرچے۔

رپورٹنگ آن لائن

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فیصل آباد میں ان دنوں کرپشن کے ایک نیے اور سنگین اسکینڈل کے چرچے میڈیا پر عام ہیں۔

مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا پران دنوں ڈائریکٹر ایکسائز فیصل آباد تنویر عباس گوندل کی مبینہ کرپشن کے قصے دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔
محکمہ ایکسائز
جن میں الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ تنویر عباس گوندل نے جعلی حاضریوں اور بوگس ٹائپنگ ٹیسٹ کی بنیاد پر مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض غیر قانونی بھرتیاں اور کانسٹیبلان کی ترقیاں کیں۔
محکمہ ایکسائز

میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق ایکسائز انسپکٹر احسن جبار اور کانسٹیبل عمر دراز مبینہ طور پر اس تمام کرپٹ نیٹ ورک کے مرکزی کردار اور ڈائریکٹر کے کارخاص رہے ہیں۔
محکمہ ایکسائز

میڈیا رپورٹس میں زرائع کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ مذکورہ اہلکاروں کی اصل ڈیوٹی مختلف کالجوں جیسے گورنمنٹ کالج، پیپلز کالونی، اور اسلامک کالج آف کامرس میں تھی، مگر وہ محض گاڑی میں بیٹھ کر جعلی حاضریاں لگواتے اور بوگس طریقے سے کام چلاتے رہے۔ جبکہ ڈائریکٹر ایکسائز فیصل آباد نے ان اہلکاروں کے زریعے کانسٹیبل سے کلرک کے عہدے پر ترقی کے لیے فی کس چھ لاکھ روپے وصول کیے۔
محکمہ ایکسائز
چھ لاکھ روپے فی کس رشوت دیکر ترقی پانے والوں میں کانسٹیبل محمد امین، شریف کاٹھیااور حامد بھٹی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق محمد امین کو ٹائپنگ آتی ہے، تاہم شریف کاٹھیا اور حامد بھٹی ٹائپنگ سے مکمل نابلد ہیں، اس کے باوجود انہیں بغیر کسی شفاف ٹیسٹ کے ترقی دے دی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چھ لاکھ روپے فی کس رشوت دے کر ترقی کے لیے معاملات طے کرنے والوں میں حماد بٹ ، رانا عمر دراز، عاصم ساہی، حافظ عابد، حسین علی، عادل، اور محمد مرتضیٰ شامل تھے تاہم میڈیا کے بے نقاب کرنے صرف کانسٹیبل محمد امین، شریف کاٹھیااور حامد بھٹی کو ہی سردست ترقی دی گئی اور دیگر کو بعد میں پروموٹ کرنے کی یقین دھانی کروائی گئی۔

دوسری طرف ڈایریکٹر ایکسائز فیصل آباد تنویر عباس گوندل کہتے ہیں کہ یہ سب ان کے خلاف پروپیگنڈا ہے انہوں نے انسپکٹر احسن جبار اور کانسٹیبل عمر دراز کو ریکوری نہ کرنے اور مس کنڈکٹ پر معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف پیدا ایکٹ 2006کے تحت کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ ان کے خلاف خبریں چلوا رہے ہیں۔

مقامی حلقوں اور میڈیا نے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سے فوری اور غیر جانب دار انکوائری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بدعنوان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق، اس اسکینڈل کی رپورٹ محکمہ اینٹی کرپشن کو ارسال کی جا چکی ہے اور جلد بڑی کارروائی کی امید کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں