جعفر بن یار۔۔۔۔
نویں اور دسویں جماعت کے پریکٹیکل امتحانات کے بغیر ہی پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کا پریکٹیکل کی کاپیاں چھاپنا حکومتی اداروں سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔اینٹی کرپشن لاہور ریجن نے معاملے کی چھان بین تیز کرتے ہوئے 29 اپریل کو پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کے قائمقام ڈائیریکٹر پروڈکشن اختر بٹ کو اپنا بیان جمع کروانے کا حتمی موقع دیدیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی سی ٹی بی نے 25 کروڑ 24 لاکھ روپے کی پریکٹیکل کاپیوں کی اشاعت کم وبیش مکمل کرلی ہے۔جس پر اینٹی کرپشن لاہور ریجن نے بورڈ کے ڈائیریکٹر پروڈکشن اختر بٹ تمام متعلقہ دستاویزات کےہمراہ طلب کیا تھا تاہم اختر بٹ پہلے تو لیت ولعل سے کام لیتے رہے اور جب دیکھا کہ اینٹی کرپشن حکام کے سامنے ان کی دال نہیں گل رہی تو انکوائری افسر کوPMIU سمیت معاملے کے دیگر فریقین کو طلب کرنے کی استدعا کر ڈالی۔
اینٹی کرپشن حکام نے اختر بٹ سمیت فریقین کو 29 اپریل کو طلب کرلیا ہے۔

زرائع کے مطابق کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر پنجاب سمیت ملک بھر میں رواں سال بھی نویں اور دسویں جماعت میں سائنس کے طالبعلم پریکٹیکل امتحان نہیں دے سکیں گے۔اور نہ ہی ان کی پریکٹیکل کی نوٹ بکس یا کاپیاں چیک کی جائینگی۔
تاہم پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ نے رواں سال کے تعلیمی سیشن کے لئے بھی پریکٹیکل کی نوٹ بکس چھاپنے کے لئے مختلف پرنٹرز اور پبلشرز کو کام الاٹ کیااور پری کو آلیفکیشن کےپراسیس میں 98 فرموں نے حصہ لیا۔جن میں سے 86فرموں کوپری کوالیفائی کیا گیا۔جبکہ ان میں سے 66 فرموں نے ٹیکنیکل اور فنانشل بڈز کے ساتھ کاغذ کے سیمپل بھی جمع کروائے۔
جنہیں پی سی ٹی بی نے 25 کروڑ 24 لاکھ روپے کی 9 ویں اور 10ویں جماعت کی پریکٹیکل کی نوٹ بکس چھاپنے کا کام الاٹ کردیا تھا









