سندھ ہائی کورٹ 54

مجرمانہ ریکارڈ پولیس کو ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں دیتا،سندھ ہائیکورٹ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے پولیس مقابلے میں شہری کی ہلاکت پر قرار دیا ہے کہ کسی بھی شخص کا مجرمانہ ریکارڈ پولیس کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

سندھ ہائیکورٹ میں پولیس مقابلے میں لاپتہ شہری شاہ میر کی ہلاکت کے معاملے کی سماعت ہوئی، سندھ ہائی کورٹ نے درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق شاہ میر کو پولیس نے حراست میں لینے کے بعد جعلی مقابلے میں قتل کیا، سرکاری وکیل کے مطابق پولیس مقابلے میں جاں بحق شخص عادی ملزم تھا، مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے۔

عدالت نے کہا کہ بظاہر واقعات کا تسلسل اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ پولیس مقابلہ مشکوک ہے، ریکارڈ کے مطابق درخواست 15 جنوری کو دائر کی گئی جبکہ مبینہ مقابلہ 17 جنوری کو پیش آیا، آئین پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار اور تشدد سے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔

عدالت نے تحریری حکم نامے میں واضح کیا کہ پولیس کی ذمہ داری خود ہی سزا دینے کے بجائے ملزمان کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے، اگر پولیس کو اس نوعیت کے اقدامات کی اجازت دی گئی تو عدالتی نظام کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔

سندھ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے مطابق ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ کے تحت ایسے مقدمات کی تحقیقات ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں، مقدمے کی تحقیقات فوری طور پر ایف آئی اے کو منتقل کی جائیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ ایف آئی اے قانون کے مطابق تیس یوم میں تحقیقات مکمل کرے، تفتیشی افسر درخواست گزار اور دیگر گواہان کے بیانات ریکارڈ کرے، فیصلے کی نقول متعلقہ حکام کو فوری ارسال کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں