بیروت (ر پورٹنگ آن لائن) لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے ایک ماہ گزر جانے کے
بعد بھی متاثرین حکومت اور عالمی امداد کے منتظر ہیں۔دھماکے میں تباہ ہونے والے گھروں کے بیشتر مکین وسائل نہ ہونے کے
سبب اپنے گھروں کی مرمت کرنے سے قاصر ہیں۔ایک ماہ بعد بھی بیروت کی گلیوں اور بازاروں میں تباہ شدہ عمارتوں کے
ڈھانچے اور جابجا ملبہ بکھرا ہوا ہے۔ بندرگاہ کے قریب موجود بعض عمارتیں تو کھنڈر بن چکی ہیں۔بیروت کی گلیوں میں اب بھی
بہت سے ایسے شہری گزرتے دکھائی دیتے ہیں جن میں سے کسی کی آنکھ پر زخم کے آثار ہیں اور کئی افراد نے بازو پر پٹی باندھ
رکھی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اب اْن کی جمع پونچی بھی ختم ہوتی جا رہی ہے جب کہ حکومت کی طرف سے اب بھی اْن کی
داد رسی نہیں کی گئی۔عالمی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سردیوں سے قبل بیروت کے شہریوں کی دوبارہ آباد کاری اور
گھروں کی مرمت کا عمل مکمل نہ ہوا تو کوئی بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے۔ناروے کے تنظیم نارویجین رفیوجی کونسل کی عہدے دار
الینا ڈیکومیتس کے مطابق تباہ شدہ گھروں کی تعمیر کے لیے آٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم درکار ہے تاہم اب تک صرف لاکھ ڈالر
ہی جمع ہو سکے ہیں۔واضح رہے کہ چار اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر ذخیرہ شدہ لگ بھگ تین ہزار ٹن ایمونیم نائٹریٹ کی وجہ س
ے ہونے والے دھماکے میں 190 سے زائد ہلاکتیں جب کہ ہزاروں افراد زخمی ہو گئے تھے۔









