لاہور چیمبر آف کامرس 163

لاہور چیمبر میں “منشیات کے استعمال کی روک تھام اور بحالی میں کاروباری برادری کا کردار”کے موضوع پر سیمینار

جعفر بن یار

کمانڈر اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب بریگیڈیئر سکندر حیات چوہدری نے کہا ہے کہ منشیات ایک سٹریٹجک سطح کی وبا ہے کیونکہ اسے پیسہ کمانے کا آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے کچھ لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ”منشیات کے استعمال کی روک تھام اور بحالی میں کاروباری برادری کا کردار“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے سیمینار کی صدارت کی

جبکہ معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس موقع پر موجود تھے۔اے این ایف کمانڈر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ 45 افراد دہشت گردی سے مرتے ہیں جبکہ ایک دن میں 570 افراد منشیات سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات اس لیے دہشت گردی سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہ ایک خاموش قاتل اور بہت بڑا خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے پنجاب میں ایک بھی سرکاری ہسپتال ایسا نہیں جو صرف نشے کے عادی افراد کے لیے ہو۔ اس حوالے سے چیف سیکرٹری اور وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات میں تفصیلی بات چیت کی گئی۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہسپتال کے قیام کے لیے جگہ مختص کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے این ایف 6 ارب ڈالر مالیت کی منشیات کو پکڑنے اور تلف کرنے کے لیے سالانہ 14 ملین ڈالر خرچ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری اس مقصد کے لیے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے کہا کہ سیمینار کا مقصد باہمی کوششوں کے ذریعے معاشرے کو نشے سے پاک کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے نوجوان منشیات کے عادی ہو رہے ہیں۔ ہم کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر آئس وغیرہ کے بارے میں سنتے تھے لیکن اب سکول کے بچے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ تدارک کے اقدامات کرنا بہت ضروری ہے ورنہ ہماری نوجوان نسل کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ چونکہ بہت سی ڈرگز مارکیٹ میں پائے جانے والے کیمیکلز سے بنتی ہیں، اس لیے یا تو اینٹی نارکوٹکس فورس بہت سے کیمیکلز کی فروخت پر پابندی لگا دیتا ہے یا بہت زیادہ ریگولیٹ کردیتا ہے۔ لاہور چیمبر کے ممبران کے لیے جو کیمیکلز کے کاروبار سے وابستہ ہیں ان کے لیے یہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
 لاہور چیمبر آف کامرس
انہوں نے کہا کہ اے این ایف کے عملے کو کاروباری برادری سے مشورہ کرکے قواعد و ضوابط مرتب کرنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سماجی شعبے میں بھی پوری طرح سرگرم عمل ہے اور نہ صرف آفت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کے لیے فوری طور پر حرکت میں آتا ہے بلکہ لبارڈ ، شالامار ہسپتال جیسے اداروں کی سرپرستی بھی کررہا ہے۔ کاشف انور نے کہا کہ لاہور چیمبر نے ایک سال کے دوران 60 سے زائد ایم او یوز پر دستخط بھی کیے ہیں جن کا بنیادی مقصد ممبران کو مختلف اداروں صحت اورتعلیم کی سہولیات رعایت پر مہیاپر کرنا ہے۔ ۔
 لاہور چیمبر آف کامرس
انہوں نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے اور نوجوانوں کو نشہ کی لعنت سے دور رہنے کی ترغیب دی جائے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح دہشت گردی کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اسی طرح ڈرگ مافیاز کے لیے بھی کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ جو لوگ ڈرگ مافیا کی سرپرستی کرتے ہیں یا ان کے آلہ کار بنتے ہیں انہیں مجرم سمجھا جائے اور سزا دی جائے تاکہ ہمارے معاشرے سے اس لعنت کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں