کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتا شہری کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہلاکت سے متعلق درخواست پر پولیس کیخلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیدیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو لاپتا شہری کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہلاکت سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار رانی خاتون نے کہا کہ میرے بھائی کی تلاش میں 10/12 موٹر سائیکل سواروں اور کئی موبائل گاڑیوں نے حصہ لیا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ٹیکسی ڈرائیور شاہ میر کو 14/15 جنوری کی درمیانی شب سچل تھانے کی حدود سے حراست میں لیا گیا۔ اہلخانہ نے شاہ میر کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن سراغ نہیں ملا۔ سچل پولیس کی جانب سے رپورٹ جمع کروادی گئی۔ درخواست گزار نے شاہ میر سے متعلق کوئی تحریری شکایت تھانے میں جمع نہیں کروائی۔ تفتیش پر علم میں آیا کہ 17 جنوری کو شاہ لطیف تھانے کی حدود میں پولیس مقابلہ ہوا۔
مقابلے میں ہلاک ہونے والے ملزم کی شناخت شاہ میر کے نام سے سے ہوئی۔ پولیس مقابلے کی تفتیش الفلاح تھانے میں کی جا رہی ہیں۔ عدالت نے پولیس رپورٹ پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ مقابلے سے پہلے درخواست کیسے دائر ہوگئی۔ عدالت نے پولیس کیخلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیدیا۔ درخواست میں سیکرٹری ہوم، ڈی جی رینجرز، آئی جی پولیس، ایس ایس پی ملیر اور ایس ایچ او سچل کو فریق بنایا گیا ہے۔








