چین 17

لاؤس-چین تعلقات کے مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں، صدر لاؤس

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین اور لاؤس کے درمیان سفارتی تعلقات کی 65ویں سالگرہ کے موقع پر، لاؤس پیپلز ریولوشنری پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور لاؤس کے صدر تھونگلون سیسولیت نے اپنے دورہ چین کے موقع پر چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔

اس انٹرویو میں انہوں نے چین-لاؤس ریلوے کو بھرپور سراہا اور چین-لاؤس تعلقات کے مستقبل کے لیے گہری توقعات کا اظہار کیا۔
چین-لاؤس تعلقات کے حوالے سے، انہوں نے کہا کہ رواں سال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 65ویں سالگرہ ، اور “لاؤس-چین دوستی کا سال” بھی منایا جا رہا ہے۔لاؤس پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک کے قیام کے بعد سے، دونوں ممالک کے تعلقات مزید گہرے، مضبوط اور ہمہ جہت ہوتے جا رہے ہیں۔انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور سفارتی تعلقات مزید مضبوط ،گہرے اور اعلیٰ سطح تک پہنچیں گے۔

2 جون کو صدر تھونگلون سیسولیت چین کے شہر ہانگ زو پہنچے جہاں انہوں نے اپنے پانچ روزہ سرکاری دورے کا آغاز کیا۔ ہانگ زو آمد کے بعد اسی روز انہوں نے مقامی ہائی ٹیک انوویشن انٹرپرائزز کا دورہ کیا۔تھونگلون سیسولیت نے کہا کہ چین نے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اور ڈیجیٹل معیشت کو قومی ترقی کے کلیدی شعبو ں کے طور پر اپنایا ہے، جو لاؤس کے لیے ایک قیمتی تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں لاؤس اور چین کےدرمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں اور دونوں ممالک اس شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔

لاؤس کے صدر نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل انیشی ایٹوز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام ممالک،خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، برابری کی بنیاد پر ایک دوسرے کا احترام کریں،بالادستی سے گریز کریں، کثیر الجہتی نظام کو فروغ دیں، یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کریں،اور مشاورت کے ذریعے عالمی نظام کو آگے بڑھائیں۔ لاؤس ان اصولوں کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔

چین-لاؤس ریلوے کے حوالے سے صدر تھونگلون سیسولیت نے کہا کہ لاؤس میں پہلے کبھی ریلوے نظام موجود نہیں تھا، لیکن اب ایک تیز رفتار ریلوے کی تعمیر نے عوام کےخواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ اس ریلوے نے لاؤس کی شکل و صورت بدل دی ہے اور ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انٹرویو میں لاؤس کے صدر نے کہا کہ پینسٹھ برسوں میں، لاؤس اور چین کے تعلقات وراثت اور ترقی کے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا تعاون نہ صرف دو طرفہ تبادلے کو فروغ دیتا ہے بلکہ علاقائی ترقی کے لیے نئے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں