شام میں مشن 141

لا پتہ اسرائیلی ہواباز کا انجام معلوم کرنے کے لیے موساد کا لبنان اور شام میں مشن

تل ابیب(ر پورٹنگ آن لائن)اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موسادکے ایجنٹوں نے اسرائیل کے لا پتہ ہواباز رون اراد کا پتہ چلانے کے لیے گذشتہ ماہ ایک وسیع اور جرات مندانہ آپریشن کیا۔ رون اراد طویل عرصے سے لا پتہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رون اراد 1986 میں اپنے ساتھی ہواباز کے ساتھ ایک مشن پر تھا جس کے دوران میں اس کا لڑاکا طیارہ لبنان کی فضائوں میں گر کر تباہ ہو گیا۔ ابتدا میں اسے لبنانی تنظیم امل موومنٹ کے جنگجوئوں نے قیدی بنا لیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ رون اراد زندہ نہیں رہا اور طیارے کا ہواباز بچا لیا گیا تھا۔اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ گذشتہ ماہ موساد کے مرد اور خواتین ایجنٹوں نے ایک آپریشن کا آغاز کیا۔

اس کا مقصد رون اراد کے انجام اور اس کی موجودگی کی جگہ کے حوالے سے نئی معلومات حاصل کرنا ہے۔بینیٹ نے مذکورہ آپریشن کو پیچیدہ ، وسیع اور دلیرانہ قرار دیا۔اس سے قبل اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے جاری رپورٹوں میں اس جانب اشارہ کیا گیا تھا کہ رون اراد 1988 میں فوت ہو چکا ہے۔اسرائیلی ریڈیو کے مطابق لبنان میں سیرین نیشنل سوشلسٹ پارٹی میں ایک سابق عسکری ذمے دار نے اپنے بیان میں بتایا کہ اسرائیلی ہواباز (رون اراد) 1988 میں مذکورہ جماعت کی قید میں تشدد کا نشانہ بننے کے بعد ہلاک ہو گیا تھا۔

اسے شمالی لبنان میں المتن ضلع میں دفن کیا گیاتاہم دوسری جانب اسرائیلی اخبارکا کہنا تھا کہ اسرائیلی ہواباز رون ارادکو لبنان میں القدس فورس نے قیدی بنایا ، یہ فورس ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ہے۔ مزید برآں اسرائیلی ہواباز کو ایران منتقل کرنے کی خبریں بھی گردش میں آئیں۔جنوری 2006 میں تہران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے پہلی مرتبہ بتایا کہ اسرائیلی ہواباز مر چکا ہے اور اس کی لاش لا پتہ ہو گئی۔ بعد ازاں 2008 میں حزب اللہ اس بات کی تصدیق کی تھی کہ رون اراد 1988 میں فرار کی کوشش کے دوران میں مارا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں