طاہر اشرفی 43

قومی سلامتی اداروں کے خلاف کسی مہم کو قبول نہیں کریں گے ‘ طاہر محمود اشرفی

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان علما ء کونسل کے سربراہ مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ معاشرے میں نفرت، گالی گلوچ، الزامات اور فتوئوں کے ذریعے اصلاح ممکن نہیں، مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی، برداشت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا،منبر ومحراب کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جس پر عملدرآمد کے پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،افغانستان کے علما ء کی جانب سے اعلامیہ کو خوش آئند قرار دیتے ہیں، افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اعلامیہ پرعملدرآمد کرے۔

مرکزی مجلس شوری کے اجلاس کے بعد علمائے کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گالیاں دینے سے معاملات درست نہیں ہوں گے، کسی کو برا بھلا کہنے سے بھی اصلاح نہیں ہوگی اور نہ ہی فتوے لگانے سے حالات بہتر ہوں گے۔ان معاملات پر آئندہ بھی تفصیل سے بات کروں گا اور حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں تمام مکاتبِ فکر کے علما ء اور مشائخ کی آرا ء پر بھی گفتگو کریں گے۔پاکستان میں منبر ومحراب کی بہت بڑی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ منبر و محراب پر تو فوری سوالیہ نشان کھڑا کر دیا جاتا ہے، لیکن وہاں سے جو بات کہی جاتی ہے، اس پر عمل کتنا ہوتا ہے، اس پر کم ہی غور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات قائداعظم محمد علی جناح نے واضح طور پر کہی تھی کہ ہمارا آئین اور دستور چودہ سو سال پہلے طے ہو چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس پر آج تک مکمل عمل کیوں نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ مسئلہ آئین اور قانون کا نہیں بلکہ عملدرآمد کا ہے۔اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ہماری ذمہ داری واضح کر دی ہے، اگر کوئی غلطی یا غیر مناسب عمل کرے تو اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے، اسے سمجھایا جائے اور حکمت کے ساتھ درست راستے کی طرف لایا جائے نہ کہ نفرت اور تقسیم کو فروغ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان علما ء کونسل کی مرکزی مجلس شوری کااجلاس ہوا جس کا بنیادی مقصد ملکی حالات پر غور و خوض کرنا تھا،فلسطین ،سوڈان اور کشمیر کے مسئلہ اورداخلی مسائل پر بھی بات چیت ہوئی، پاکستان علما ء کونسل ملک گیر سطح پر مہم شروع کررہی ہے جس کا مقصد خلافت راشدہ کا نظام لانا ہے، خلافت راشدہ میں انصاف کے لئے دھکے نہیں کھانے پڑتے،ملک میں نظام خلافت راشدہ سیمینار انعقاد کیاجائے گا،

اسلام آبادمیں جج کی بیٹے نے دو بیٹیوں کو گاڑی کے نیچے کچل دیا ،جج کے دو سیب چوری ہوئے تو مقدمہ درج ہوگیا، جس جج کے بیٹے نے دو بیٹیوں کو کچلا اور جس جج نے دو سیب چوری کامقدمہ درج کروایا وہ کیسے انصاف دیں گے،نیکی کے کاموں میں تعاون اور غیر شرعی کام میں محاسب کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپہ سالار قوم اور وزیر اعظم اچھا کام کریں گے تو تحسین کریں گے اگر اچھا کام نہیں کریں گے اور یہ شریعت و آئین کے خلاف ہوگا تو اس سے اختلاف اور تنبیہ کریں گے، یہ ممکن نہیں ہر کام کی مخالفت و تائید کریں ،بعض لوگوں کی خواہشات ہے جو وہ کہیں ہم وہ کہنا شروع کردیں،

کیا پاکستان کے فیصلے چند یوٹربرز اور سوشل میڈیا نے کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استثنیٰ کے معاملے پر میں سوال کرتا ہوں کہ احتساب کا نظام شرعی ہے یا غیر شرعی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف کسی مہم کو قبول نہیں کریں گے اس کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے، بھگوڑا مافیا کہتا ہے جنگ ہی نہیں ہوئی ،آج پوری دنیا فاتح قوم و فاتح فوج کی طرح دیکھ رہی ہے، اسرائیل کو کون تسلیم کررہا ہے ،روزانہ جھوٹ بول کر قوم کو گمراہ کیا جارہا ہے،اگر فوج کے خلاف آواز اٹھائیں گے تو ہم مزاحمت کریں گے پھر جسے تکلیف ہوتو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا،

ہم پاکستان کے دفاع کیلئے سپہ سالار کے ساتھ ہیں، جہاد میدان میں اگر ضرورت پڑی تو حاضر ہیں ، دفاع سلامتی و استحکام کے لئے مدارس ،منبر و محراب حاضر ہیں، افغانستان کے علما ء کی جانب سے اعلامیہ کو خوش آئند قرار دیتے ہیں، افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اعلامیہ پرعملدرآمد کرے، کسی کو افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کی اجازت نہیں دی جا سکتی نہ پاکستان سے افغانستان میں دہشتگردی کی اجازت دی جا سکتی ہے ، آپ کہتے ہیں آپ کی زمین دہشتگردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی تو یہ بات ہم بھی کہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں خطے میں امن آئے ۔

انہوں نے کہا کہ ملکی سیاسی جماعتیں مل کر بیٹھیں ملک کو دفاعی ، معاشی و داخلی طوپر مضبوط بنانے کے لئے آپس میں بات چیت کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے مشائخ نے قرار دیا ہے تشدد رویے قبول نہیں،ہمارا مسئلہ ملک کو نظام مصطفی کی منزل تک پہنچانا ہے ،تکلیف اسی بات پر ہے ختم نبوت کی بات ہوتی ہے ،کوئی اختلاف نہیں ہوا ،سب نے استحکام پاکستان کی بات کی، اسلام آباد میں وزیر اعظم و سپہ سالار کے ساتھ بیٹھ کر سب علما ء کہہ رہے ہیں ملک کو عادلانہ ریاست بنانا ہے، فوج کوئی ایسا کام نہیں کرے گی جس کی وجہ سے مسئلہ فلسطین کمزور ہو۔

انہوں نے کہا کہ نہ تو میں عدالت ہوں نہ تفتیشی افسر ہوں جو بے گناہ ہیںانہیں رہا کردیا جائے،اگر عقل و شعور فکر و سوچ سے اپنے لوگوں سے ہمدردی کی جاتی تو ممکن ہے مرید کے حادثہ نہ ہوتا، مرید کے میں جو نوجوان یارسول اللہ یا عقیدہ ختم نبوت کے جذبہ سے گئے جو بے گناہ جیل میں ہیں انہیں رہا کرنے کا اعلان کیا جائے تمام بچوں کو جو یارسول اللہ کے جذبہ سے اس جلوس پر گئے یا جنہوں ین منفی سرگرمی یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی انہیں رہا کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ فوج کا اپنا نظام ہے ہم مداخلت کا حق نہیں رکھتے انہیں خود فیصلے کرنے دینے چاہئیںملک بھر میں طلاق و خلع کے لئے اصلاح سنٹر بننے چاہئیں، طلاق و خلع کی شرح بڑھ گئی ہے ، نکاح کی طرح طلاق و خلع کیلئے امام مسجد سے رجوع کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں