قومی اسمبلی 264

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی نے بزرگ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا بل منظور کرلیا

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی نے بزرگ شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق بل ترامیم کے ساتھ منظور کرلیا، کمیٹی کی جانب سے منظور کی گئی ترامیم کے مطابق ایکٹ کے تحت بننے والی کونسل میں ایک ممبر سینیٹ اور ایک ممبر قومی اسمبلی سے شامل کیا جائے گا،پرائیویٹ ہسپتال بزرگ شہریوں کو علاج کے اخراجات پر 20 فیصد ڈسکاونٹ دیں گے، اگر کسی پرائیویٹ ہسپتال کی غفلت سے کسی کی جان کا نقصان ہوا تو اس ہسپتال کو دس لاکھ روپے کاجرمانہ کیا جائے گا۔

منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر محسن داوڑ کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سینئر سیٹیزنز بل 2019 کا جائزہ لیا گیا، وزارت انسانی حقوق حکام نے کمیٹی کو بل پر بریفنگ دی، کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی بریفنگ کے مطابق ایک اولڈ ایج ہوم دارالشفقت کے نام سے بنایا جائے گا،60 سال کے افراد سینئر سیٹیزن کارڈ کے لیئے اپلائی کر سکیں گے،جس سے مستحق بزرگ شہریوں کی مالی معاونت کی جائے گی، بزرگ شہریوں کو ادویات اور طبی آلات کی خریداری پر 20 فیصد ڈسکانٹ دیا جائے گا،

بزرگ شہریوں کو ٹرین ، جہاز اور سرکاری ٹرانسپورٹ کے سفر پر بھی کرائے میں 20 فیصد ڈسکانٹ دیا جائے گا، بزرگ شہریوں کے لیئے ایک فنڈ قائم کیا جائے گا، جس سے بزرگ شہریوں کی ویلفیئر کے لیئے پیسہ استعال کیا جائے گا،کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت انسانی حقوق سینئر سیٹیزنز کونسل بنائے گی، وزارت انسانی حقوق کی وزیر اس کونسل چیئرپرسن ہوں گی، رکن کمیٹی مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اوور سائیٹ ہونی چاہیئے، کونسل میں ایک ممبر سینیٹ اور ایک ممبر قومی اسمبلی سے رکھا جائے، پرائیویٹ ہسپتال بزرگ شہریوں کو علاج کے اخراجات پر 20 فیصد ڈسکانٹ دیں،

کمیٹی نے اس تجویز کی بھی تائید کی کہ اگر کسی پرائیویٹ ہسپتال کی غفلت سے کسی کی جان کا نقصان ہوا تو اسے ایک ملین کاجرمانہ کیا جائے،کمیٹی نے بل کی ترامیم کے ساتھ منظوری دے دی، کمیٹی نے ڈومیسٹک وائلینس(پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) بل 2020 کا جائزہ آئندہ کے لیئے موخر کر دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں