محمد جاوید قصوری 72

قائد اعظم کے پاکستان میں غیر آئینی اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں’جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ اگر حکومت پنجاب نے متنازع بلدیاتی ایکٹ واپس نہ لیا تو ہم وزیر اعلیٰ ہاؤس اور پنجاب اسمبلی کا گھیراو کریں گے ، یہ بلدیاتی ایکٹ دراصل ایک کالا قانون ہے جس کا مقصد عوام کو بااختیار بنانے کے بجائے بیوروکریسی کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ کرنا اور منتخب عوامی نمائندوں کو عملی طور پر بے اختیار کرنا ہے۔

ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے گزشتہ روز منصورہ میں مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ اقدام آئین، جمہوریت اور قائد اعظم کے تصورِ پاکستان کے صریحاً خلاف ہے۔ بلدیاتی نظام جمہوریت کی نرسری ہوتا ہے، لیکن موجودہ بلدیاتی ایکٹ کے ذریعے اس نرسری کو ہی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹ سے منتخب نمائندوں کے اختیارات سلب کر کے تمام طاقت بیوروکریسی کو سونپ دینا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اس کالے قانون کے خلاف صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک چلا رہی ہے اور اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے غیور عوام اس بلدیاتی ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں اور کسی صورت اس کو قبول نہیں کریں گے۔ حکومت کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ یہ حکومت کی ہٹ دھرمی اور غیر آئینی طرزِ حکمرانی کا تسلسل ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان میں ایسے اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں جو عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حقوق سے محروم کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ عوام سے خوفزدہ ہے، اسی لیے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے انہیں چند غیر منتخب افسران کے ہاتھوں میں دینا چاہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں