جوڈیشل الاؤنس 17

فیصل آباد جیل کی اراضی کا تنازع،لاہور ہائیکورٹ نے حکومتی کمیٹی کو 30روز کی مہلت دے دی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے فیصل آباد جیل کی اراضی سے متعلق اہم کیس میں حکومت پنجاب کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کو معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے 30روز کی مہلت دے دی.

جسٹس جاوید اقبال وینس نے شہری سرفراز احمد کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی اور عدالت کو بتایا کہ وہ سال 2000ء تک فیصل آباد میں جیل سپرنٹنڈنٹ کے طور پر تعینات رہے تاہم اس عرصے کے دوران فیصل آباد جیل کی اراضی کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی تنازعہ سامنے نہیں آیا تھا۔درخواست گزار کے والد کو جو اراضی الاٹ کی گئی تھی وہ فیصل آباد جیل کے فرنٹ پر واقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر جیل کے فرنٹ والے حصے کا قبضہ درخواست گزار کو دے دیا گیا تو جیل میں آنے جانے کا راستہ ہی بند ہو جائے گا، جس سے جیل کے انتظامی امور شدید متاثر ہوں گے۔ آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے عدالت کو مزید بتایا کہ حکومت پنجاب نے 67کنال الاٹ شدہ اراضی کے معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے،

جو اراضی الاٹمنٹ سمیت دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لے گی اور اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔دوسری جانب درخواست گزار سرفراز احمد نے موقف اختیار کیا کہ ان کے والد کو ان کی جنگی خدمات کے اعتراف میں سال 1964ء میں 67کنال اراضی الاٹ کی گئی تھی تاہم جیل انتظامیہ طویل عرصے سے اس الاٹ شدہ اراضی کا قبضہ دینے سے انکار کر رہی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں قانونی طور پر الاٹ ہونے والی اراضی کا قبضہ دلوانے کا حکم دیا جائے۔فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کو مقررہ مدت میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں