فیصل آباد 151

فیصل آباد ایکسائز ملازمین ڈائریکٹر کے خلاف اینٹی کرپشن پہنچ گئے تحریری شکایت، سنگین الزامات۔سیکرٹری کی چشم پوشی۔

تنویر سرور

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فیصل آباد میں کرپشن کا نیا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے، جہاں محکمانہ بدعنوانی، جعلی حاضریوں، بوگس ٹائپنگ ٹیسٹ اور مبینہ رشوت کے الزامات پر پیچیدہ اور سنگین صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔

محکمے کے دو ماتحت ملازمین، سینیئر کلرک احسن جبار اور کانسٹیبل عمر دراز نے اینٹی کرپشن میں باقاعدہ تحریری شکایت جمع کرواتے ہوئے ڈائریکٹر ایکسائز فیصل آباد تنویر عباس گوندل پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تنویر عباس گوندل نے جعلی حاضریوں، بوگس ٹائپنگ ٹیسٹ اور چھ لاکھ روپے فی کس رشوت کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر بھرتیاں اور کانسٹیبلان کی ترقیاں کیں۔

ترقی کے لیے مبینہ طور پر جن اہلکاروں سے رشوت وصول کی گئی، ان میں محمد امین، شریف کاٹھیا، اور حامد بھٹی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق شریف کاٹھیا اور حامد بھٹی کو ٹائپنگ نہیں آتی، اس کے باوجود انہیں بغیر کسی شفاف امتحان کے کلرک کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

فیصل آباد
فیصل آباد

تحریری شکایت میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ دیگر اہلکاروں، جن میں حماد بٹ، رانا عمر دراز، عاصم ساہی، حافظ عابد، حسین علی، عادل اور محمد مرتضیٰ شامل ہیں، سے بھی چھ لاکھ روپے فی کس کے حساب سے ترقی کے وعدے لیے گئے اور انہیں بعد میں ترقی دینے کی یقین دہانی کروائی گئی۔

فیصل آباد
فیصل آباد

دوسری طرف، ڈائریکٹر ایکسائز فیصل آباد تنویر عباس گوندل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایماندارانہ شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسپکٹر احسن جبار اور کانسٹیبل عمر دراز کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف پنجاب پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی کی جارہی ہے، اور انہی وجوہات کی بنیاد پر یہ افراد ان کے خلاف درخواستیں دے رہے ہیں

دوسری طرف تمام تر صورتحال سے بخوبی آگاہ ہونے کے باوجود سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب اس معاملے سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں جسے عوامی حلقوں میں شکوک وشبہات کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن فیصل آباد اس اسکینڈل کی مکمل انکوائری کررہی ہے اور جلد ہی انکوائری مکمل ہونے کے بعد زمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی متوقع ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں