ڈائریکٹر ایکسائز 150

فریج ، اے سی، ایل سی ڈی۔ ڈائریکٹر ایکسائز کے خلاف کرپشن بھی شرما گئی۔اینٹی کرپشن میں ایک اور انکوائری۔

تنویر سرور
ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد کے ڈائریکٹر تنویر عباس گوندل کے خلاف کرپشن اور بدعنوانی کے بڑے الزامات سامنے آگئے ہیں

زرائع نے آگاہ کیا ہے کہ تنویر عباس گوندل کے خلاف یہ الزامات کسی اور نے نہیں بلکہ انہی کے ماتحت کام کرنے والے انسپکٹر احسن جبار نے ایک درخواست میں عائد کیے ہیں جو اینٹی کرپشن حکام کے روبرو درج کروائی گئی ہے ڈائریکٹر ایکسائز۔

احسن جبارکی طرف سے الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ ڈائریکٹر ایکسائز فیصل آباد تنویر عباس گوندل نے اس سے، 80 انچ کی LCD، ڈیڑھ ٹن کا ایرکنڈیشنر، ڈبل ڈور فریج ،گھر کے لیے ڈریسنگ ٹیبلز سمیت دو عدد بیڈ، صوفہ سیٹ، چینی کا ڈنر سیٹ اور مائیکروویو اوون لیے اور وعدہ کیا کہ وہ ان کے ماتحت دیگر انسپکٹروں سے ان اشیا کے عوض اسے 12 لاکھ روپے دلوایں گے۔تاہم کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی اسے رقم واپس نہیں کی گئی بلکہ رقم کے تقاضے پر اسے نوکری سے برخاستگی جیسی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انسپکٹر ایکسائز فیصل آباد احسن جبار ن

 احسن جبار ن
احسن جبار ن

ے اینٹی کرپشن کے رو برو اپنی درخواست میں تنویر عباس گوندل پر مزید الزامات لگاتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ڈایریکٹر مزکور کے گھر کے بجلی و سوئی گیس سمیت دیگر یوٹیلیٹی بلز ادا کرتا رہا جن کی رسیدیں درخواست کے ہمراہ لف کی گئیں۔ احسن جبار کے مطابق یہ بلز بھی اسے بلیک میل کرکے اور نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دیکر ادا کروائے جاتے رہے ہیں۔

تاہم ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فیصل آباد تنویر عباس گوندل ان الزامات کے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ احسن جبار اور کانسٹیبل عمر دراز کے خلاف نااہلی اور بد عنوانی پر پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری شروع کی گئی ہے جس کا انہیں رنج ہے اور وہ اس طرح کی درخواستیں دے رہے ہیں۔

ادھر اینٹی کرپشن حکام نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور تنویر عباس گوندل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔

زرائع کا کہنا ہے کہ الزامات کی تصدیق ہوتی ہے تو ڈایریکٹر تنویر عباس گوندل

 ڈایریکٹر تنویر عباس گوندل
ڈایریکٹر تنویر عباس گوندل

کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ معاملہ فیصل آباد کے عوامی اور انتظامی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے اور عوام کی نظریں اب تحقیقات کے نتیجے پر لگی ہوئی ہیں کہ ان الزامات کی حقیقت سامنے آئے گی یا نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں