چارلی ہیبڈو دفاتر حملہ کیس 157

فرانس،چارلی ہیبڈو دفاتر حملہ کیس، 4پاکستانی نژاد افراد گرفتار

پیرس(رپورٹنگ آن لائن)فرانسیسی انتظامیہ نے ستمبر کے آخر میں جریدے چارلی ہیبڈو کے سابقہ دفاتر کے باہر چاقو سے حملے کے الزام میں گرفتار پاکستانی نژاد شخص سے مبینہ تعلق کے شبے میں مزید 4 پاکستانی نژاد افراد کو گرفتار کر لیا۔فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گستاخانہ خاکے بنانے اور شائع کرنے والے میگزین ‘چارلی ہیبڈو’ کے سابقہ دفاتر کے باہر چاقو کے حملے میں 4 افراد زخمی ہوئے تھے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 4 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے ایک پر بدھ کو دہشت گردی کی سازش کا الزام عائد کردیا گیاہے، جبکہ دیگر افراد کو جج کے سامنے ابھی پیش کیا جائے گا اور ان پر بھی باضابطہ الزام عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع نے اخبار لے پاریسین کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد پر شبہ ہے کہ انہیں پہلے سے حملہ آور کے منصوبے کا علم تھا اور انہوں نے اسے اس پر اکسایا۔حملہ آور 25 سالہ ظہیر حسان محمود کو حملے کے بعد دہشت گردی کے الزام کے تحت گرفتار کرلیا گیا تھا اور وہ اب بھی زیر حراست ہے۔ان گرفتاریوں کی خبر پیرس کی ایک عدالت کی جانب سے چارلی ہیبڈو کے دفاتر اور مارکیٹ پر جنوری 2015 میں حملہ کرنے والے افراد کے گروپ کے دیگر 14 ساتھیوں کو مالی معاونت اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک سے منسلک رہنے سمیت دیگر جرائم کا مرتکب قرار دینے کے دو روز بعد سامنے آئی ہے۔چارلی ہیبڈو نے ستمبر میں ٹرائل کے آغاز پر دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کیے تھے۔تین ہفتے بعد ایک پاکستانی شخص نے جریدے کے سابق دفاتر کے باہر حملہ کرکے 4 افراد کو زخمی کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں