برطانوی وزیر اعظم 11

غزہ کے لیے ٹونی بلیئر کا نام بطور آزمائش سامنے لایا گیا،فلسطینی اتھارٹی

قاہرہ(رپورٹنگ آن لائن )حالیہ رپورٹس اس امکان کے بارے میں گردش کر رہی ہیں کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے کے لیے ایک “سویلین کونسل” تشکیل دے سکتے ہیں۔ فلسطینی صدر کے مشیر ڈاکٹر محمود الھباش نے کہا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک آزمائشی غبارہ ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی فلسطینیوں کے علاوہ کسی اور کی حکومت کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ بلیئر کا نام اٹھانے کا خیال کہاں سے آیا اور نہ ہی ہمیں اس کی حقیقت معلوم ہے یا یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔انہوں نے ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ فلسطینی حکمرانی ایک فلسطینی معاملہ ہے۔ “ہم لاکھوں سالوں کے بعد بھی فلسطینیوں کے علاوہ کسی اور کی حکومت کو قبول نہیں کر سکتے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی اتھارٹی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے منصوبے کے ساتھ مثبت انداز میں مشغول ہونے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ چار قومی ترجیحات ہیں جن کا پہلے صدر محمود عباس نے اعلان کیا تھا اور نیویارک میں دو ریاستی حل کانفرنس میں اپنی تقریر میں اس پر زور دیا تھا۔

ہماری چار اہم ترجیحات ہیں۔ پہلی جارحیت کا مکمل اور مستقل خاتمہ۔ دوسرا غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو روکنا۔ تیسری ترجیح غزہ تک انسانی امداد پہنچانا ہے اور چوتھی ترجیح ایسے سیاسی افق اور بین الاقوامی جواز کو کھولنا ہے جس کے نتیجے میں قبضے کا خاتمہ ہو اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی منصوبہ جو ان ترجیحات کو حاصل کرنے کا باعث بنتا ہے اسے فلسطینی اتھارٹی کی حمایت حاصل ہوتی ہے ، چاہے اس کی تفصیلات یا ٹائم لائنز میں کچھ اختلافات کیوں نہ ہوں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حتمی مقصد غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور القدس کا ریاست فلسطین کی چھتری کے نیچے اتحاد ہونا چاہیے۔ اسے ہی دنیا کی آبادی کی اکثریت تسلیم کرتی ہے۔مزید برآں محمود الھباش نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ روکنے کا فیصلہ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے اور اگر وہ ایسا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو نیتن یاہو ہاں میں کہیں گے اور اس پر فورا عمل کریں گے۔ فلسطین کی ریاست کو مغربی ملکوں کی جابن سے تسلیم کرنے کے بارے میں محمود الھباش نے کہا کہ اس کے صرف علامتی نہیں بلکہ سیاسی اور قانونی مضمرات ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تسلیمات سیاسی طور پر ان ممالک کے موقف اور نقطہ نظر اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ان کے سیاسی نقطہ نظر کو تبدیل کر دیں گے۔

ابو مازن محمود عباس کے مشیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ تسلیم کرنے سے فلسطین کی موجودگی اور عالمی برادری میں عمومی طور پر نمائندگی کو بھی تقویت ملے گی۔ انہوں نے سعودی عرب کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام اور ان کی قیادت فلسطین کے لیے سعودی عرب کے پیش قدمی کے کردار کو سراہتی ہے۔ باخبر ذرائع نے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے تیار کیے جانے والے امن منصوبے کے تحت غزہ کی پٹی کے انتظام میں اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں