جرمنی 18

غزہ میں بین الاقوامی فوج کو اقوامِ متحدہ کا مینڈیٹ چاہیے،اردن، جرمنی

عمان /برلن(رپورٹنگ آن لائن)اردن اور جرمنی نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے بعد از جنگ طرزِ حکمرانی کے لیے صدر ٹرمپ نے مستقبل کی فلسطینی پولیس کی معاون جس بین الاقوامی فورس کا منصوبہ پیش کیا ہے، اسے اقوامِ متحدہ کا مینڈیٹ حاصل ہونا چاہیے۔جنگ بندی کے تحت بنیادی طور پر عرب اور مسلم ممالک کے اتحاد سے فلسطینی سرزمین پر افواج کی تعیناتی کی توقع ہے۔

مصر اور اردن کی حمایت یافتہ نام نہاد بین الاقوامی استحکام فورس پٹی میں فلسطینی پولیس کو تربیت اور مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے اور حماس کو ہونے والی ہتھیاروں کی سمگلنگ روکے گی۔اردن کے وزیرِ خارجہ ایمن الصفدی نے کہاکہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس استحکام فورس کے موثر طریقے سے کام انجام دینے کے لیے اس کے پاس سلامتی کونسل کا مینڈیٹ ہونا ضروری ہے۔تاہم اردن اس پٹی میں اپنی افواج نہیں بھیجے گا۔

الصفدی نے کہا، ہم اس مسئلے کے (مقام سے)بہت قریب ہیں اور غزہ میں فوج تعینات نہیں کر سکتے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک اس کے باوجود بین الاقوامی فورس سے تعاون کے لیے تیار ہے۔الصفدی بحرین میں آئی آئی ایس ایس مناما ڈائیلاگ کانفرنس میں اپنے جرمن ہم منصب جوہان واڈے فل کے ہمراہ خطاب کر رہے تھے .

جنہوں نے بھی اس فورس کے لیے اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسے بین الاقوامی قانون میں واضح بنیاد کی ضرورت ہو گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بات ان ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے جو غزہ اور فلسطینیوں کے لیے فوج بھیجنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔ جرمنی بھی اس مشن کے لیے ایک واضح مینڈیٹ دیکھنا چاہے گا، واڈے فل نے کہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں