اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ اللہ پاک کا شکر ہے کہ جس نے عوامی خدمت کا موقع دیا،پاکستان ایک مشکل وقت میں ہے مگر ہمیں اپنی پاک فوج پر فخر ہے،ضرب للحق ہماری سیکیورٹی فورسز کی جرات اور بہادری کا شاہکار ہے،پاک فوج نے بھرپور انداز میں جس جرات اور بہادری سے فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے پشت پناہوں کو جواب دیا اس پر پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا، دوحہ کانفرنس کے بعد فریق دوئم نے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی،ہماری بہادر مسلح افواج کسی بھی اندرونی اور بیرونی خطرے سے نمٹنے کیلیے پوری طرح تیار ہیں۔
آزادکشمیر کی سلامتی پاکستان کے ساتھ جڑی ہے، کوئی بھی ہماری پاک فوج کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا،میں بیس کیمپ کی حکومت کے سربراہ کے طور پر اپنی پاک فوج کو کشمیری قوم کی مکمل حمایت کا یقین دلاتا ہوں۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت مل کر رہیگا۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کیا۔اس موقع پر وزیراطلاعات،اوقاف و مذہبی امور چوہدری محمد رفیق نیئر،وزیر خرانہ چوہدری قاسم مجید،وزیر خوراک جاوید اقبال بڈھانوی،وزیر برائے کشمیر کاز وماحولیات محترمہ نبیلہ ایوب، مشیرحکومت احمد صفیر اور پولیٹیکل اسسٹنٹ سید عزادار حسین کاظمی بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس عوامی حکومت کے 100 دن کے حوالے سے ہے آج ریاست کے اندر کو صورتحال ہے وہ یکسر تبدیل ہو چکی ہے جب یہ ذمہ داری ہمیں سونپی گئی تو مسائل ہی مسائل تھے راستے بند تھے کانٹے ہی کانٹے تھے پورا نظام ایک کنفیوژن کا شکار تھا سیاسی نظام جمود کا شکار تھا لوگ کسی تحریک کا حصہ بننے کا سوچ رہے تھے یہ حکومت چلانا آسان نہیں تھا مگر اسکے باوجود ہم نے یہ ذمہ داری اٹھائی ہم لوگوں کے پاس گئے ان کے مسائل سنے ان کی باتیں سنیں لوگوں کے دکھوں پر مرحم رکھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے آغاز کے پہلے دن سے لے کر آج تک تمام عوامی مسائل کو حل کیا ایک ایسے وقت میں جب سیاستدان اپنے گھروں میں بند تھے ہم باہر نکلے اور عوام کے پاس گئے اور ان لوگوں کے پاس بھی گئے جو تحریک کا حصہ تھے ہم نے اس چیلنج سے نمٹنا ہے ان پانچ ماہ میں ہم نے نئے راستے کا انتخاب کرنا ہے ہم نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے اپنی گورننس اور معیشت کو ٹھیک کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں لوگوں کا اعتماد بحال ہوا وزیراعظم سیکرٹریٹ سے لیکر وزراء تک اور بیوروکریسی تک کیدروازے عوام کیلیے کھول دئیے گئے، ہماری طاقت ہمارا ڈائسپورہ ہے جس نے کشمیر کاز کو زندہ رکھا ہوا ہے ہم نے انہیں یہاں بلایا اور ان کے مسائل سنے ان کیلیے الگ عدالت کا قیام عمل میں لایا ان کیلیے الگ پورٹل قائم کیا ان کیلیے مواقع کا آغاز کیا،کمیٹیاں بنائیں گروپس بنائے تجاویز لیں اور جلد ہی اس پالیسی پیپر کو کابینہ سے منظور کیا جائے گا،مختلف محکموں کو ضم کیا کابینہ کا حجم چھوٹا کیا ان ریسورسز کو جو استعمال نہیں ہو رہے تھے قابل استعمال کیا،ریاست کے دارالحکومت کو خوبصورت بنانے کیلیے منصوبہ شروع کیا،سالڈ ویسٹ کیمنصوبے شروع کئے۔ اگر آپ گورننس کرنا چاہتے ہوں تو یہ فرق نہیں پڑتا کہ آپ دنوں کیلیے آئے ہیں مہینوں کیلیے یا سالوں کیلیے کشمیر ایک حساس خطہ ہے اسکی حساسیت کومدنظر رکھتے ہوئے جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو دشمن کو پروپیگنڈے کا موقع ملتا ہے کشمیر میں گورننس کو بہتر بنایا آئی ٹی،سیاحت،منرلز،ہائیڈرل کو بہتر بنایا اور سرمایہ کاری کو پرکشش بنایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی کی بناء پر ہمیں یقین ہے عوام ایک مرتبہ پھر ہمیں اعتماد کا ووٹ دیگی۔اگر کام کرنے کا جذبہ ہو بڑی سے بڑی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ہم نے 100دن میں بیشمار کام کئے ہیں اللہ پاک کا فضل ہے ریاست کے عوام کا اعتماد ریاست پر بحال ہو چکا ہے۔ انشائاللہ بقیہ 100دن میں بھی ایسے ہی کام کر کے جائیں گے،ریاست کے ہر اس شعبے کوجو نظر انداز تھا اسے بحال کیا ہے۔ نوجوانوں کے روزگار کے حوالے سے کام کیا ہے،ہمارے نوجوان انتہائی باشعور اور ٹیلنٹڈ ہیں ان کیلیے حکومت بھرپور کام کرے گی۔ہم نے ہر معاملے کو حل کیا کاموں میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی یہی وجہ ہے کہ ریاست میں امن قائم ہو چکا ہے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں گے مہاجرین 1989 کے گزارہ الاؤنس میں اضافہ کیا شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام اختلاف کرنا ہے اپوزیشن دو دن بعد میرے ساتھ افطار بھی کر رہی ہو گی، ایکشن کمیٹی نے 5جون کی تاریخ دی ہے اس کا مطلب ہے وہ حکومت کو کام کرنا دینا چاہتے ہیں،ہماری بڑی کامیابی ہیلتھ کارڈ کا اجراء کیا کام ہم کر رہے ہیں بقیہ کام بھی ہو جائیں گے،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک اوورسیز کشمیریوں کی بات کی ہم نے اس کانفرنس کے ذریعے انہیں ایک راہ دکھائی ہے انہیں بات چیت کا فورم فراہم کیا ہر وہ ایشو جو اوورسیز کا ہے اسپر پالیسی پیپر بنایا جائے گا وہ کابینہ میں لایا جائے گا اوورسیز کیلیے الگ عدالت کا قیام ہے وہ 90دن میں فیصلہ دے گی وزیراعظم پورٹل کا۔آغاز بھی ان کی شکایات کا فوری ازالہ کرنے کے لئے ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں گزشتہ حکومت کا حصہ رہا اس ڈھائی سال میں عوام اور حکومت کے درمیان ایک خلاء پیدا ہوا جو بڑھتا ہی چلا گیا رابطے کے فقدان کی وجہ سے جو مسائل اسمبلی میں حل ہونے چاہیں تھے وہ سڑکوں پر حل ہوے۔
آج جموں کشمیر ہاؤس میں چہل پہل ہے پہلے یہاں ہو کا عالم تھا،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا اور پاکستانیوں کا گہرا رشتہ ہے ہماری پاک فوج نہ صرف چاروں صوبوں بلکہ آزادکشمیر کی بھی محافظ ہے پاکستان کی بقاء کیلیے ہم سب ایک ہونگے،اس حوالے سے میں چاہتا ہوں کہ ہم ایک آل پارٹیز کانفرنس بھی رکھیں تاکہ مشترکہ آواز جائے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمشنر کے معاملے پر ہم سے پہلے تاخیر ہوئی ہم نے کوئی تاخیر نہیں ہوئی صدارتی الیکشن میں پیپلز پارٹی اپنا امیدوار لیکر آئے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے وہی اعلان کیے جو پورا ہونگے،5Gکے اعلانات وہی ہوئے جو ہمیں تحریری طور پر موصول ہوا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس،ٹیرف،تعلیمی بورڈ ہمارے کام ہیں کوشش کروں گا کہ جب ہم حکومت مکمل کریں گے آپ مظفرآباد میں داخل ہوں گے تو آپ کو انشائاللہ لگے گا کہ کوئی حکومت کر کے گیا ہے۔ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں الیکٹرانک بسیں لانا چاہتے ہیں،سالڈ ویسٹ کے منصوبے شروع کریں گے،ل پاکستان اور ریاست کے تعلق کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے کام کر کے دکھایا ہے آپ کو چیزیں نظر آئیں گی مہنگائی ہے لیکن اسکو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے فوڈ اتھارٹی کو ایکٹو کیا ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کو ایکٹو کیا۔انہوں نے کہا ریاست کا اپنا تشخص ہے جس کا فیصلہ حق خودارادیت کے ذریعے ہوگا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تین ماہ پہلے تک کوئی سیاستدان کسی حلقے میں جلوہ نہیں کر سکتے تھے جب عوام اپنے نمائندوں کو اونر شپ دیتی ہے،وہاں وہ انکا محاسبہ بھی کرتی ہے 100دن میں ہر کام ایوان میں ہوا سروس ٹریبونل،چیف الیکشن کمشنر سب کا تقرر ہوا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے ساتھ خوشگواری تعلقات قائم کریں گے۔









