عطا اللہ تارڑ 5

عمران نیازی حکومت میںفیصلے اہلیت ،گورننس ،ملک کے مفاد میں نہیں ،روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہ کرتی تھیں’ عطا تارڑ

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ لندن کے ایک معروف جریدے نے کہا ہے کہ عمران نیازی حکومت میں فیصلے اہلیت ،گورننس یا ملک کے مفاد میں نہیں بلکہ روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہ کرتی تھیں وہ بتاتیں تھی کون سی تعیناتی کہاں ہو گی ،کون سے ملک کے ساتھ اچھے تعلقات اور کون سے ملک سے فاصلہ رکھنا ہے.

اسی بنیاد پر بزدار کو وزیر اعلیٰ لگایا گیا ،ملک کے بہت سے اہم فیصلے جن کا تعلق ملک کی سالمیت ، آگے بڑھنے اور ملک کی ترقی کے ساتھ تھاوہ تمام فیصلے اس توہم پرستی کے تحت کئے گئے ،27ویں آئینی ترمیم عجلت میں نہیں کی گئی ، آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے2005-06سے بحث چل رہی ہے ، اب عام آدمی کو اعلیٰ عدالت میںوقت پر سنا جائے اور فوری انصاف ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف دائر ہتک عزت دعویٰ کیس میں عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم شہبازشریف کے عمران خان کے خلاف 2017میں دائر کئے گئے ہتک عزت کے دعوے میں عدالت میں پیش ہوا ہوں ، عدالت میں میرے بیان پر جرح ہوئی ہے اور میں نے عدالت کے رو برو سوالات کے جوابات دئیے ، میں نے عدالت میں کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے جھوٹے ،من گھڑت اور بے بنیاد الزامات سے شہباز شریف کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ، عمران خان کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا کہ شہباز شریف نے انہیں پانامہ کیس واپس لینے کے عوض 10ارب روپے دینے کی پیشکش کی ، اس جھوٹے الزام اور پراپیگنڈے کو نہ صرف میڈیا بلکہ عوامی مقامات پر بھی بار بار دہرایا گیا ، انہیں جھوٹے الزامات کا جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے وابستگی رکھنے والا ایک شخص بیرون ملک بیٹھا ہے ،اس کے خلاف لندن کی عدالت نے ایک آرڈر پاس کیا اور اسے سرٹیفائیڈ جھوٹا قرار دیا ، اس شخص نے پاک فوج اوراداروں پر الزامات لگائے جو جھوٹے ثابت ہوئے ، اسے نہ صرف ہرجانہ دیناپڑا بلکہ کیس پر جتنے اخراجات آئے اسے وہ بھی ادا کرنا پڑے ، لیکن یہ جھوٹا شخص آج بھی پراپیگنڈے میں مصروف عمل ہے ۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ لندن کے معروف جریدے ”اکانومسٹ ”میں معروف صحافی کی ایک سٹوری شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے عمران نیازی کے جتنے فیصلے ہیںوہ اہلیت کی بنیاد پر ،گورننس کی بنیاد پر یا ملک کے بہترین مفاد میں نہیں ہوتے تھے بلکہ روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھیں ،وہ بتاتیں تھی کون سی تعیناتی کہاں ہو گی ،کون سے ملک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے ، کون سے ملک سے فاصلے پر رہنا ہے ،یہ تمام معاملہ روحانیت کے لبادے میں تھا یہ باقاعدہ توہم پرستی کی بنیاد پر تھے ،ان کا اپنا روحانیت کا فیصلہ تھا جس کے تحت فیصلے کئے جاتے تھے ،تمام فیصلوں پرنہ صرف اثر انداز ہوتی تھیں بلکہ یقینی بناتی تھیں کہ اس فیصلے پر عملدرآمد ہو ۔

آج کے دور میں بھی اس طرح کی توہم پرستی کی گئی جس کا زمینی حقائق اور دلائل سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ گورننس اور سیاست ایک آرٹ ہے ، اس کے اوپر ماہرانہ رائے چاہیے ہوتی ہیں ،خارجہ امور کے ایکسپرٹ بتاتے ہیںاس میں کیسے آگے بڑھنا ہے ،معیشت میں کیسے آگے بڑھنا ہے ، یہ رائے دینے والے اپنی فیلڈ کے ایکسپرٹ ہوتے ہیں ،مگر لندن کے جریدے نے کہا ہے کہ یہ خارجہ پالیسی ، معیشت ،مقامی فیصلوں اور ملک کو آگے لے جانے کے حوالے سے ایکسپرٹس کو نہیں پوچھتے تھے بلکہ یہ تمام تر فیصلے ان کی اہلیہ بشری بی بی بتاتی تھیں کہ وہ کس بنیاد پر کرنے ہیں ،سی بنیاد پر بزدار کو وزیر اعلیٰ لگایا گیا.

اسی بنیاد پر ملک کے بہت سے اہم فیصلے جن کا تعلق ملک کی سالمیت ، آگے بڑھنے سے تھا ، ملک کی ترقی کے ساتھ وہ تمام فیصلے اس توہم پرستی کے تحت کئے گئے ، ایک بندہ جو اس طرح کے معاملات کے ذریعے گورننس کو چلاتا ہو یہ انتہائی افسوسناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس شخص کی تاریخ ہے یہ جب بھی بولے جھوٹ بولے گا،جب فیصلے کرنے پر آتا ہے تو آج دنیا کے جریدے کہہ رہے ہیں ان فیصلوں کے پیچھے جھوٹ اور بہتان کا پور اسسٹم تھا ،وہ خاتون خانہ کرانا تھیں ، انہوں نے اپنا ایک روحانی سلسلہ بنایا تھا،دنیا کے اندرادارے ہیں ،بڑے بڑے عالم ،فاضل مفتی صاحبان موجود ہیں جو دین کی تعلیم دیتے ہیں جو عزت کی جگہ پر ہیں ،دنیا میں پاکستان میں دین کی تعلیم کی یونیورسٹیز ہیں ،ہمارے ہاں پیر صاحبان ،مشائخ ہیں،مفتیان کرام ہیں جو دین کی تعلیم دیتے ہیں اور لوگ باقاعدہ یہ تعلیم حاصل کرتے ہیں.

یہ کون سی دین کی تعلیم اور روحانیت تھی جس کا ذکر اس جریدے کے اندر ہوا ہے جس کے تحت پاکستان کی تقدیر کے فیصلے عمران خان کرتے تھے ،ان کی سیاست جھوٹ ،منافقت اورالزام تراشی کے علاوہ کچھ نہیںہے ۔انہوں نے کہا کہ بتایا جائے آج خیبر پختوانخواہ میں کتنے ہسپتال ،یونیورسٹیاں ،کالج اور سڑکیں بنی ہیں ، کتنے میگا پراجیکٹ دئیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وانا کے اندر بڑا آپریشن ہوا ، یہ خدانخواستہ اے پی ایس سے بڑا سانحہ ہو سکتا تھا جہاں ساڑھے پانچ سو طلبہ تھے ،پاک فوج نے بڑی مہارت ،احتیاط اور بہادری سے آپریشن کیا اورایک ایک طالبعلم کی زندگی کو محفوظ کیا اور تمام دہشتگردوں کو جہنم واصل کیاگیا .

پاک فوج اورفورسز خراج تحسین کی مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئی بی اورسی ٹی ڈی نے اسلام آباد کچہری دھماکے کے ہینڈلر اورسہولت کاروں کو پکڑ لیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے اور بہت پیشرفت ہوئی ہے ، دہشتگرد سوفٹ ٹارگٹ کو ہدف کرتے ہیں کیونکہ ان کے لئے ہارڈ ٹارگٹ پر پہنچنا مشکل ہے ،پاکستان کی سکیورٹی محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سری لنکن حکومت ، کرکٹ ٹیم اور دیگر انتظامیہ کے شکر گزار ہیں کہ پاکستان کا دورہ کیا گیا ،قوم کو بھی مبارکباد دیتاہوں کہ ہماری ٹیم اچھی کھیلی ہے ،اس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کردار ادا کیا ،وزیر داخلہ محسن نقوی رابطے میں تھے ،فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ان کے وزیر دفاع سے بات کی اورٹیم ورک کے تحت اس ملک کے اندر کرکٹ جاری ہے اور محفوظ طریقے سے جاری رہے گی ،زمبابوے کی کرکٹ ٹیم سیریز کھیلنے پاکستان آئی ہے ہم اس کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں ،عوام کو اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی ۔وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کے لئے آئینی و قانونی پروسیجر کو اپنایا گیا ہے ،قانون اورضابطے کے تحت معاملات آگے بڑھے ہیں،کسی کی پسند نہ پسند پر فیصلے نہیں ہوتے بلکہ آئین و قانون کے مطابق ہوتے ہیں ۔

پارلیمان بالا دست ادارہ ہے جس کو قانون سازی اورآئینی ترمیم کا حق حاصل ہے ،میرٹ بیسڈ سسٹم بنایا گیا ہے ، اختیارات کی تقسیم کو دیکھتے ہوئے ،عدلیہ اور پارلیمان کے کردار کو دیکھتے ہوئے آئین و قانون کے مطابق اقدامات کئے گئے ہیں۔ جو تقرریاں ہو رہی ہیں وہ مکمل طو رپر میرٹ پر ہوں گی اس میں قطعاًذاتی پسند نا پسند نہیں ہو گی ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت سے جنگ جیتنے کے بعد دنیا کی پاکستان میں عزت بڑھی ہے ،دنیا اب پاکستان کو سلام کرتی ہے ،ہمارے پاسپورت اورشہریوں کو عزت دیتے ہیں ۔ اگر کوئی تنقید کرتا ہے تو وہ صرف تحریک انصاف ، بھارت اور افغانستان کرتے ہیں،بعض اوقات سوشل میڈیا پر ان کا بیانیہ ایک ہو جاتاہے ۔جو باہر بیٹھ کر بات کر رہے ہیں وہ یہاں آ کر بات کریں .

پی ٹی آئی کے باقی رہنما بھی تو یہیںپر ہیں،باہر بیٹھ کر صرف ملک کے خلاف پراپیگنڈا کیا جاتا ہے ، ملک کے اندر ائیں ہم ان کی سوشل میڈیا کانفرنس کراتے ہیں یہاں اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم ہرگز عجلت میں نہیں کی گئی ۔ آئینی عدالت کی بحث تو 2005-06میں شروع ہوئی ، محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور ہمارے قائد نواز شریف کا وژن تھا ، اے این پی نے بھی اسے سپورت کیا تھا ،اب عام آدمی ،عام سائل کو اعلیٰ عدالت میںوقت پر سنا جائے اور فوری انصاف ملے گا.

کئی دفعہ آئینی کیسز پربہت لگتا تھا اورعدلیہ کا پچاس فیصد وقت آئینی کیسز پر لگ جاتا تھا اب وہی وقت پاکستان کے عام شہریوں کے لئے استعمال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لئے آئین و قانون کو پیش نظر رکھتے ہوئے پراسس مکمل کیا گیا ہے ،آئینی عدالت اور ترمیم پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔ عجلت وہ ہوتی ہے جس میں بحث اور مشاورت نہ ہو ، یہ معاملات تو کئی سالوں سے چل رہے تھے بلکہ دیر آید درست آید۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں