لاہور (رپورٹنگ آن لائن) محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے زیر اہتمام پاکتاجک ثقافتی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
فیسٹیول میں تاجکستان سے آئے ہوئے فنکاروں نے روایتی ثقافتی رقص، موسیقی اور رنگا رنگ پرفارمنس پیش کر کے شرکاء کے دل موہ لیے۔تقریب میں پاکستان کے معروف گلوکار راحت فتح علی خان نے اپنی شاندار پرفارمنس سے سماں باندھ دیا۔ تاجکستان سے آئے 72رکنی ثقافتی وفد کی قیادت تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف نے کی۔اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات پنجاب شازیہ رضوان، سیکرٹری اطلاعات سید طاہر رضا ہمدانی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا آرٹس کونسل محمد نواز گوندل اور ڈی جی پی آر شیخ فرید احمد بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے تاجک وفد کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ پاکستان اور تاجکستان مشترکہ ثقافتی اقدار، روایات اور تہذیبی رشتوں میں گہری مماثلت رکھتے ہیں اور یہ فیسٹیول دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت تاجکستان کے ساتھ ثقافتی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ تاجکستان کی ثقافت کا منفرد رنگ اور تشخص ہے، جس کے رنگ، لباس اور روایات بے حد متاثر کن ہیں۔ تاجک خواتین کا وقار، حسن اور ثقافتی لباس قابلِ تحسین ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کی ثقافت اور اقدار میں نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے جبکہ علامہ محمد اقبال کا کلام دونوں ممالک کو ایک مضبوط فکری اور روحانی رشتے میں جوڑتا ہے۔ تاجک فنکاروں کی موسیقی اور رقص نے دل موہ لیے اور تاجک ثقافت کو قریب سے دیکھنے کے بعد تاجکستان کے دورے کی خواہش مزید بڑھ گئی ہے۔تاجکستان میں شادیوں پر پاکستانی لباس کا استعمال دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی قربت کا ثبوت ہے۔
تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری اور فکر پاکستان اور تاجکستان کے عوام کو یک جان کیے ہوئے ہے۔ لاہور آکر ہمیں جنت کا سا احساس ہو رہا ہے۔ انہوں نے شاندار فیسٹیول اور یادگار میزبانی پر وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری کا شکریہ ادا کیا۔تقریب کے اختتام پر وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب نے تاجکستان کے کلچر ڈے کے حوالے سے لگائے گئے مختلف سٹالز کا دورہ کیا اور تاجک ہینڈی کرافٹس اور ثقافتی اشیا کو سراہا۔









