لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے مسافر سے ضبط سونا اور غیر ملکی کرنسی اصل حالت میں واپس کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ایئرپورٹ سے کسٹم حکام نے 22 سال قبل شہری سے تین کلو سونا اور 10ہزار ڈالر اور برآمد کئے تھے، محکمہ کسٹم نے شہری سے برآمد ہونے والے تین کلو سونے کی اینٹ بنا دی۔
جسٹس ملک جاوید اقبال وینس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے 9صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ۔جسٹس اقبال وینس نے مسافر سے ضبط شدہ سونا اور 10ہزار ڈالرز اصل حالت میں واپس کرنے کا حکم دے دیا، فیصلے کے مطابق سرکاری تحویل میں موجود کسی چیز کی ہیئت بدلنے سے مالک کا حقِ ملکیت ختم نہیں ہوتا۔فیصلے کے مطابق ریاست محض ایک نگران ہے وہ کسی چیز کو غیرقانونی قبضے میں نہیں رکھ سکتی، کسٹمز حکام شہری کی قیمتی جائیداد کو اپنی مرضی کی قیمت سے تبدیل نہیں کر سکتے۔عدالتی فیصلے کے مطابق آئین کا آرٹیکل 24شہریوں کو جائیداد کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، عدالتی فیصلے کے بغیر کسی کو اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے کے مطابق عدالت کسٹمز حکام کا 58لاکھ روپے ریفنڈ کا پرانا آرڈر غیر قانونی قرار دیتی ہے، کسٹمز حکام سونا قانونی طریقے سے نیلام کرنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔
عدالت کے مطابق ہتھیائے گئے سونے کی محض قیمت کا تعین واپسی کا نعم البدل نہیں ہے، شہری سے ایک لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا جائے، کسٹمز حکام سونے کو پگھلاکربنائی گئی سونے کی اینٹ درخواست گزار کیحوالے کرے۔فیصلے میں کہا گیا کہ پٹیشنر کو 10ہزار ڈالرز یا ادائیگی کے وقت کے ایکسچینج ریٹ کے مطابق پاکستانی روپے ادا کئے جائیں۔درخواست گزار عباس علی نے ضبط شدہ سونے اور ڈالرز کی واپسی کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا، عباس علی نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ سے بریت کے باوجود کسٹمز سونا واپس نہیں کر رہا۔عباس علی نے موقف اختیار کیا کہ کسٹمز حکام نے سونا پگھلا کر اینٹ بنا دی، محکمہ سونا دینے کے بجائے 2007 کے سستے ریٹ پر پیسے دینا چاہتا ہے۔کسٹمز کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سونا سٹیٹ بینک کو منتقل ہو چکا، شہری کو مروجہ قانون کے تحت صرف فروخت شدہ رقم ہی مل سکتی ہے۔









