کراچی /لاہور(ر پورٹنگ آن لائن)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہاہے کہ کورونا کی وجہ سے امسال کارپٹ کی عالمی نمائش کے پاکستان میں انعقاد کیلئے حالات کا بغور جائزہ اور غیر ملکی خریداروں سے بھی ان کی رائے لی جارہی ہے اور اس حوالے سے جلد حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا،طورخم کے راستے افغانستان سے جزوی تیار خا م مال کی درآمد میں جس قدر ریلیف میسر آئے گا ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو اتنی ہی تقویت ملے گی ،ہاتھ سے بنے قالین پوری دنیا میں پاکستان کی منفرد پہچان ہیں اس لئے ا س صنعت سے وابستہ لوگ اس سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین ریاض احمد ، سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک، میجر (ر)اختر نذیر ،عثمان اشرف، سعید خان،محمد اکبر ملک،دانیال حنیف،فیصل سعید خان سمیت دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ۔
انہوں نے کہا کہ کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی مدد آپ کے تحت انتہائی کم لاگت سے جدید لوم تیار کی ہے اگرحکومت ہماری معاونت کرے تو اسے کئی دہائیوں سے اس صنعت میں چلنے والی روایتی لومز سے تبدیل کر کے پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتاہے اور اس سے قالین کی تیاری میں وقت کی بھی بچت ہو گی ۔انہوںنے کہا کہ ایران ،نیپال اور بھارت سمیت دیگر ممالک ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کی سرپرستی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی برآمدات بھی بڑھی ہیں ، اگرپاکستانی حکومت بھی ہماری سرپرستی اور معاونت کرے تو ہم دوبارہ اپنی برآمدات کو عروج پر لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار ی لاگت بڑھنے سے لیبر کو پر کشش آمدن نہیں مل رہی اوریہی وجہ ہے کہ اس صنعت کو مقامی طور پر درکار ہنر مندوں کی قلت کا سامناہے ۔









