بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) تئیسویں شنگریلا ڈائیلاگ حال ہی میں سنگاپور میں منعقد ہوئے ۔منگل کے روز چینی میڈیا کے مطابق تین دنوں کے اجلاس کے دوران دو مناظر لوگوں کے سامنے آئے ۔ایک طرف چینی نمائندوں نے موجودہ عالمی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے عالمی حکمرانی اور سلامتی پر چین کے خیالات بیان کیے، اور امن برقرار رکھنے اور تعاون کو فروغ دینے کے پیغامات دیے، جنہیں وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔
دوسری جانب جاپانی نمائندوں کو “دوبارہ عسکریت پسندی” کا دفاع کرنے پر ہر طرف سے تنقید کا سامنا ہے اور فلپائن کے نمائندے نے ” بحیرہ جنوبی چین میں ضابطہ اخلاق” قائم کرنے کی اہمیت کو چیلنج کیا۔ کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس سال کے شنگریلا ڈائیلاگ میں چین کی آواز خاص طور پر بلند محسوس ہوئی جو نہ صرف اجلاس کی سمت پر اثر انداز ہوئی بلکہ اس نے افراتفری کا شکار اور تبدیلی سے بھری دنیا میں استحکام اور یقین پیدا کیا ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ شنگریلا ڈائیلاگ کے انعقاد سے پہلے، چینی اور امریکی صدور نے بیجنگ میں ایک تاریخی ملاقات کی۔ چین-امریکہ تعلقات میں مستحکم اور عمدہ رجحان نے اجلاس کے لیے مثبت ماحول پیدا کیا ۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے شنگریلا ا ڈائیلاگ میں اپنی تقریر میں کہا کہ امریکہ-چین تعلقات “کئی سالوں کی بہترین سطح پر ہیں۔” چینی نمائندے نے امید ظاہر کی کہ چین اور امریکہ ایک ہی سمت بڑھیں گے، اپنے سربراہان مملکت کے اتفاق رائے کو نافذ کریں گے، اور فوجی تعلقات کو صحت مند، مستحکم اور پائیدار سمت میں فروغ دیں گے۔
چین نے ہمیشہ شنگریلا ڈائیلاگ میں امن اور سلامتی کے خیالات پیش کیے ہیں ۔ اس سال کے آغاز سے، کئی ممالک کے معززین اور سیاستدانوں نے چین کا دورہ کیا ہے۔ ان کے ساتھ بات چیت اور ملاقاتوں کے دوران، چینی صدر شی جن پھنگ نے بارہا عالمی سلامتی اور عالمی حکمرانی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔
چار گلوبل انیشی ایٹو زسے لے کر بڑی طاقتوں کے تعلقات میں اسٹریٹجک استحکام کو فروغ دینے تک، اور بین الاقوامی سطح پر انصاف کی آواز پہنچانے تک، یعنی “بالادستی کی مخالفت، انصاف کی تلاش، اوردرست راستے کی پاسداری” تک، چین ایشیا پیسیفک اور عالمی امن و استحکام کا “مستقل مرکز ” بن چکا ہے۔ اس سال کے شنگریلا ڈائیلاگ میں بدلتے رجحانات کے ذریعے، یہ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ایک بڑے ملک کی ذمہ داری کا مطلب کیا ہو تا ہے ۔









