طور خم باڈر 270

طور خم باڈر ٹرمینل کی تعمیر کے سلسلے میں این ایل سی کی اہم کامیابیاں

راولپنڈی(رپورٹنگ آن لائن ) نیشنل لاجسٹکس سیل( این ایل سی) نے طور خم پر جدید سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

اب تک منصوبے پر مجموعی طور پر 32 فی صد جبکہ پہاڑوں کی کٹائی کا 90 فیصد سے زائد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے متصل طور خم قصبہ سرحد پا ر تجارت اور آمدورفت کے لئے سب سے مصروف ترین گزرگاہ ہے۔

معمول کی تجارتی سرگرمیوں کو معطل کئے بغیر پہاڑوں کی کٹائی نہائت مشکل امر تھا جسے این ایل سی نے انتہائی مہارت کے ساتھ سر انجام دیا۔ طور خم پر جدید سہولیات کی فراہمی قومی منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ ہے جس کے افغانستان، وسطی ایشیائی ریاستوں اور خطے کے دیگر ممالک کی باہمی تجارت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ منصوبہ تجارت کے فروغ اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنے اور خطے میں مخصوص جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر پاکستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ کا مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ منصوبے کے لئے سرمایہ ایشیائی ترقیاتی بینک فراہم کر رہا ہے جسے ایف بی آر کے توسط سے این ایل سی تعمیر کر رہا ہے۔

یہ منصوبہ اینٹی گریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم کے تحت چلنے والا پہلاجدید ترین نظام ہوگا جو درآمدات و برآمدات کے نظام میں نمایاں بہتری لانے کا موجب بنے گا۔ اس منصوبے سے سرحد پار مسافروں کی آمدورفت کو باضابطہ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ منصوبے کے مطابق طور خم پر سامان کی تیز رفتار کلیئرنس کے لئے عالمی معیار کے ا سکینر زبھی نصب کئے جائیں گے۔ درآمدات، برآمدات اور تجارتی اشیا کے معائنہ کے احاطوں میں جدید سہولیات کی فراہمی اس منصوبے کا اہم جزو ہے۔ مطلوبہ زمین کی فراہمی سے متعلق مسائل، کام کے لئے محدود جگہ کی دستیابی اور پاک افغان سرحدکے قریب ہونے جیسے چیلنجوں کے باوجود این ایل سی نے منصوبے پر نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔

پہاڑوں کی کٹائی اور نشیبی رقبے کی بھرائی کر کے ڈھانچے کے لئے پلیٹ فارم تعمیر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تیس میٹر اونچے پہاڑوں کو کاٹ کر اکیس لاکھ مکعب فٹ ارتھ ورک کا کام کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ اسی طرح بیس سے تیس فٹ نالوں کی بھرائی کا کام بھی مکمل کر کے عمارتوں کی تعمیر کا کام شروع کر دیا گیاہے۔

تفصیلی ہائیڈرالک اسٹیڈیز کے بعد نالوں کا رخ تبدیل کیاگیا تاکہ ہر قسم کے ممکنہ سیلاب پر قابو پایا جا سکے۔ منصوبے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کے دوران بھی پاک افغان تجارت میں خلل نہیں پڑنے دیا گیا۔

زمین کے حصول میں درپیش مشکلات کے نتیجے میں منفی اثرات پر قابو پانے کے لئے متبادل حکمت عملی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے اور بھاری مشینری کو دستیاب زمین میں جاری کاموں پر مرکوز کیا گیا ہے۔ مقامی قبائل کے ساتھ گفت و شنید بھی جاری ہے تاکہ زمین کے جلد حصول میں متعلقہ محکموں کی مدد کی جاسکے۔

مزید برآں این ایل سی مقامی قبائل کی فلاح و بہبود کے لئے بھی اقدامات اٹھا رہا ہے باڈرٹرمینل پر 80 فی صد ملازمتیں مقامی خوگہ خیل قبائل کو دی گئی ہیں۔ تعلیمی اداروں کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ مفت طبی کیمپ کا بھی باقاعدگی سے انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ قبائل کو صحت کی معیاری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جاسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں