سرفراز بگٹی 12

صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے دیرپا اور موثر حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ (رپورٹنگ آن لائن)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینا خورشید عالم نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بلوچستان کو درپیش موسمیاتی چیلنجز، ماحولیاتی خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وفاق اور صوبے کے درمیان ماحولیاتی تعاون کو مزید موثر بنانے، وسائل کی فراہمی اور تکنیکی معاونت بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی موجودہ دور کا ایک بڑا اور سنجیدہ چیلنج ہے جس کے اثرات بلوچستان میں زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے دیرپا اور موثر حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پہلا کلائمیٹ فنڈ قائم کر دیا گیا ہے جس کا مقصد ماحولیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور متاثرہ علاقوں میں عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ صوبے کو سیلاب، خشک سالی اور دیگر ماحولیاتی آفات سے محفوظ بنانے کے لیے جامع پالیسی سازی اور مربوط عملی اقدامات ناگزیر ہیں ۔میر سرفراز بگٹی نے اس امر کی نشاندہی کی کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بلوچستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سب سے زیادہ اسی صوبے کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں جس کے لیے بین الصوبائی اور وفاقی سطح پر موثر تعاون کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر رومینا خورشید عالم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت بلوچستان کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت کے اقدامات کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں کلائمیٹ چینج پالیسی کے تحت خواتین اور پسماندہ طبقات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ایک مثبت اور دور رس اقدام ہے۔ ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان کو ماحولیاتی طور پر محفوظ اور پائیدار صوبہ بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں