ہمایوں اختر خان 80

صدرِ زرداری کا 18ویں آئینی ترمیم میں کردار پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا سنہری باب ہے، ہمایوں خان

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی سیکرٹری جنرل محمد ہمایوںخان نے کہا ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا 18ویں آئینی ترمیم میں کردار پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا سنہری باب ہے۔

اپنے بیان میں ہمایوں خان نے کہاکہ 18ویں آئینی ترمیم پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری جدوجہد اور عوام دوستی کا روشن باب ہے۔انہوںنے کہاکہ تاریخی 18ویں ترمیم کے ذریعے پارلیمان کو بااختیار بنایا گیا، صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے گئے، وفاق کو مضبوط بنیادیں فراہم ہوئیں اور آمریت کے تمام راستے بند کیے گئے۔ انہوںنے کہاکہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا 18ویں آئینی ترمیم میں کردار پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ انہوںنے کہاکہ صدر آصف علی زرداری نے بطور صدر اپنے اختیارات رضاکارانہ طور پر پارلیمان اور وزیرِاعظم کو منتقل کر کے جمہوری سوچ، سیاسی بالغ نظری اور آئین سے وابستگی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

انہوںنے کہاکہ 18ویں ترمیم کے ذریعے آمریت کے نشانات مٹائے گئے، صوبائی خودمختاری کو آئینی تحفظ ملا، انہوںنے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ کو مضبوط بنیاد فراہم کی گئی اور آئین کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ صدر آصف علی زرداری نے مفاہمت، برداشت اور جمہوری تسلسل کی سیاست کو فروغ دے کر ملک کو آئینی استحکام دیا۔ انہوںنے کہاکہ 18ویں ترمیم اس حقیقت کی واضح گواہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور صدر آصف علی زرداری نے ہمیشہ آئین، پارلیمان اور عوام کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوںنے کہاکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وڑن اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا۔ انہوںنے کہاکہ 18ویں آئینی ترمیم آج بھی اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک، آئین اور عوام کے مفاد کو ہر چیز پر ترجیح دی۔ انہوںنے کہاکہ 18 ویں آئینی ترمیم پر پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے۔ انہوںنے کہاکہ 18 ترمیم جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور آئینی بالادستی کی ضامن ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی متحرک قیادت میں ایک مضبوط، منظم اور فعال سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پارٹی کارکنوں کو بھرپور انداز میں متحرک کرتے ہوئے تنظیمی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی لائی جائے گی اور عوامی رابطہ مہم کو مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ ملک بھر میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے اور عہدیداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں رہے ہیں، ایک مضبوط، متحرک اور فعال تنظیم ہی پارٹی کی اصل طاقت ہے۔ انہوںنے کہاکہ قیادت اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ کارکنوں کی شمولیت اور فعالیت کے بغیر عوامی سیاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

انہوںنے کہاکہ تمام صوبوں، ڈویڑنوں، اضلاع اور یونین کونسل کی سطح پر تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ عہدیداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور تنظیم کو نچلی سطح تک مضبوط کرنے کے لیے جامع اور واضح حکمتِ عملی مرتب کی جا رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے تمام تنظیمی عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل، کارکنوں سے مضبوط روابط اور پارٹی نظریے کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں دیانتداری، محنت اور خلوص کے ساتھ ادا کریں۔ انہوںنے کہاکہ ایک منظم اور متحرک تنظیم کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں