جوڈیشل ریمانڈ 275

شہباز شریف اور حمزہ شہباز جوڈیشل ریمانڈ میں16 جنوری تک توسیع

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) احتساب عدالت لاہور نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز جوڈیشل ریمانڈ میں سولہ جنوری تک توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کو چھ روزہ جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر جج جواد الحسن کے روبرو پیش کیا گیا۔دوران سماعت شہباز شریف نے استدعا کی کہ عدالت نے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیا تھا اس میں میرے دو کنسلٹنٹ شامل کرنے کا حکم دیا جائے۔

نیب نے کہا کہ چار سو ارب روپے بچائے مگر چنیوٹ آئرن عور میں ہم نے چھ سو چالیس ارب روپے بچائے ہیں۔ جج جواد الحسن نے کمرہ عدالت میں لیگی کارکنوں کے رش ہونے پر نوٹس لیتے ہوئے کمرہ عدالت خالی کرنے کا حکم دیاجبکہ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے نیب کے گواہوں محمد شریف اور ابراہیم ملک کے بیان پر جرح کی۔گواہ محمد شریف نے بیان دیا کہ سات اکتوبر دو ہزاد انیس کو تفتیشی افسر کو شہبازشریف کی انیس سو پچانوے سے دو ہزار اٹھارہ کی انکم ٹیکس تفصیلات فراہم کیں جبکہ گواہ ابراہیم ملک نے بتایا کہ کوئی ایسی دستاویز تفتیشی افسر کو پیش نہیں کی جس میں شہبازشریف نے ٹیکس چوری،آمدن چھپائی یا فراڈ کیا ہو۔

محکمے کے پاس فائلر کا تمام ریکارڈ موجود ہے اور شہباز شریف کے آڈٹ کا ریکارڈ بھی مل سکتا ہے۔ احتساب عدالت نے شہباز شریف کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے کمشنر ان لینڈ ریونیو سے شہباز شریف کے ٹیکس آڈٹ کا ریکارڈ منگوا لیا۔عدالت نے ایف بی آر کو شہبازشریف کا دو ہزار چودہ کا ٹیکس آڈٹ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت سولہ جنوری تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں