اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ شہادتوں کا خمیازہ دہشتگردوں کو بھگتنا ہو گا۔
قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، جنگ سے متاثرہ لاکھوں افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کی۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں خوں ریزی ہو گی تو خمیازہ افغانستان کو بھگتنا پڑے گا، پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہری ملوث ہیں، دہشت گردی کی جنگ میں عوام اور سکیورٹی فورسز نے بےپناہ قربانیاں دیں۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ میں عوام اور سیکورٹی فورسز نے بےپناہ قربانیاں دیں، پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، ہم نے کبھی انڈیا کے ساتھ جارحیت کی بات نہیں کی، اِس خطے میں بلند اور توانا آواز پاکستان کی رہی ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ افغانستان کے لیے پاکستان نے بہت قربانیاں دیں، عملی طور پر مہاجرین کی مہمان نوازی کی، وہ تاریخ کا حصہ ہے، جب سے افغان طالبان رجیم آئی ہے پاکستان میں آٹھ ہزار سے زائد شہادتیں ہوئی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی تمام تفصیلات دی گئیں، اُن کو ضمانت دی گئی کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے جتنے وسائل درکار میں پاکستان دینے کو تیار ہے، اسلام آباد، باجوڑ، بنوں میں دہشتگردی کی کڑی افغانستان سے ملتی رہی۔
وفاقی وزیرپارلیمانی امور نے کہا کہ شہادتوں کا خمیازہ دہشتگردوں کو بھگتنا ہو گا،آپریشن افغانستان مین دہشتگردوں کے خلاف جاری ہے اور اُن کے خاتمے تک جاری رہے گا، جب سے طالبان رجیم آئی تین دورے افغانستان ہوئے کہ دراندازی کو روکا جائے۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران پر حملوں کی بھرپور مذمت کی ہے، خلیجی ریاستوں پر حملوں کی بھی شدید تحفظات ہیں، ہم اس جنگ میں کسی کے حصہ دار نہیں بننا چاہتے، خطے میں امن کے خواہشمند ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ آج وزیرِاعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں پارلیمانی لیڈرز اور سینئر رہنماؤں کو امن وامان کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، اپوزیشن کی غیر حاضری افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔








