سپریم کورٹ 150

سپریم کورٹ،حکومت نے آئین کی دفعہ 63 اے کی تشریح کیلئے ریفرنس دائر کردیا

اسلام آباد (ر پورٹنگ آن لائن)وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد حکومتی اراکین کی جانب سے وفاداری بدلنے پر ممکنہ نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں آئین کی دفعہ 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس دائر کردیا جس میں 4 سوالات اٹھائے گئے ہیں اس ضمن میں ایوانِ صدر سے بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔صدر مملکت نے وزیرِاعظم کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 63 اے کے اغراض و مقاصد، اس کی وسعت اور دیگر متعلقہ امور پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ریفرنس کچھ اراکین پارلیمنٹ کے انحراف کی خبروں، ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر دائر کیا گیا ہے۔

ریفرنس میں سپریم کورٹ کے سامنے اٹھائے گئے سوالات کے مطابق آئین کی روح کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انحراف کی لعنت کو روکنے اور انتخابی عمل کی شفافیت، جمہوری احتساب کیلئے آرٹیکل 63 اے کی کون سی تشریح قابل قبول ہوگی۔ سوال اٹھایاگیاکہ ایسی تشریح جو انحراف کی صورت میں مقررہ طریقہ کار کے مطابق رکن کو ڈی سیٹ کرنے کے سوا کسی پیشگی کارروائی مثلاً کسی قسم کی پابندی یا نئے سرے سے الیکشن لڑنے سے روکنے کی اجازت نہیں دیتی۔سوال اٹھایاگیاکہ وہ مضبوط بامعنی تشریح جو اس طرح کے آئینی طور پر ممنوع عمل میں ملوث رکن کو تاحیات نااہل کر کے منحرف ووٹ کے اثرات کو بے اثر کر کے اس طرزِ عمل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔سوال اٹھایاکہ کیا ایک رکن جو آ آئینی طور پر ممنوع اور اخلاقی طور پر قابل مذمت حرکت میں ملوث ہو اس کا ووٹ شمار کیا جائے گا یا اس طرح کے ووٹوں کو خارج کیا جاسکتا ہے؟۔

سوال اٹھایاگیاکہ کیا وہ رکن جو اپنے ضمیر کی آواز سن کر اسمبلی کی نشست سے مستعفی نہیں ہوتا اور انحراف کا مرتکب ہو جسے ایماندار، نیک اور سمجھدار نہیں سمجھا جاسکتا وہ تاحیات نااہل ہوگا؟موجودہ آئینی اور قانونی ڈھانچے میں فلور کراسنگ، ووٹوں کی خرید و فروخت روکنے کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔،ریفرنس دائر کرنے کے لیے سپریم کورٹ آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ریفرنس میں صدر کی نمائندگی وہ خود کریں گے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس میں بنیادی طور پر آئین کی دفعہ 63 اے پر عدالتی رائے مانگی گئی ہے اور منحرف ارکان کی نااہلی کی مدت سے متعلق سوال کیا گیا ہے۔انہوں بتایا کہ عدالت سے رائے مانگی گئی ہے کہ منحرف رکن کی مدت موجودہ مدت کے لیے ہے یا تاحیات؟ اور کیا منحرف رکن کا ووٹ گنتی میں شامل ہو گا یا نہیں؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں