سپریم کورٹ 72

سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت منظورکرلی

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم محمد عرفان کی ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔ سپریم کورٹ میں چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم محمد عرفان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو سماعت کی۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ملزم محمد عرفان کی ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔سماعت کے دوران وکیلِ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم محمد عرفان نے کم عمر لڑکی کو اغوا کیا اور اس کے گھر سے سونا اور نقدی چوری کی۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مبینہ طور پر اغوا ہونے والی لڑکی کی عمر 16 سال ہے۔ملزم کے وکیل محمد صدیق اعوان نے عدالت کو بتایا کہ لڑکی نے ملزم سے کورٹ میرج کی ہے اور اس حوالے سے مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا بیان عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورٹ میرج کرنے والی لڑکی جڑواں بہنوں میں سے ایک ہے جبکہ اس کی دوسری بہن کی شادی 3 سال قبل ہو چکی ہے۔اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ فیملی ٹری نکالنے کی ضرورت نہیں، اور یہ بھی سوال کیا کہ آیا اس طرح کی باتوں سے دیگر افراد کے خلاف کارروائی کروانا مقصود ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ بچی تین مرتبہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو چکی ہے اور اپنے بیان میں واضح طور پر بتا چکی ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میاں بیوی راضی ہیں تو پھر مسئلہ کیا ہے۔عدالت نے دورانِ سماعت استفسار کیا کہ ملزم کب سے گرفتار ہے، جس پر وکیلِ صفائی نے بتایا کہ ملزم جون 2025 سے حراست میں ہے۔سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ چلے گا اور اس قانون کے تحت سزا کیا ہے۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت سزا کی مدت 16 سال 4 ماہ تک ہو سکتی ہے۔دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے ملزم محمد عرفان کی ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں