اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میرشکیل الرحمن کی ضمانت منظور کر لی۔جنگ جیو کے ایڈیٹر انچیف میرشکیل الرحمن کی سپریم کورٹ میں درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے کی، سپریم کورٹ کی بینچ میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین شامل ہیں۔
میر شکیل الرحمن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ میر شکیل کو الاٹ زمین سے قومی خزانے کو ایک پینی کا بھی نقصان نہیں ہوا، میر شکیل الرحمن کو 12 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔وکیل امجد پرویز نے کہا کہ انکوائری کے وقت میر شکیل الرحمن کی گرفتاری عمل میں لائی گئی،12 مارچ کو وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوئے، موجودہ ریفرنس 4 لوگوں کے خلاف دائر ہوا جبکہ اس کیس میں درخواست گزار کے علاوہ کسی ایک کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس 180 کنال 18 مرلہ کل رقبہ ہے، محمد علی جوہر ٹائون بنانے کیلئے یہ اراضی حاصل کی گئی، یہ 180 کنال 18 مرلہ 1982 میں ایل ڈی اے نے ایکوائر کی، مالک محمد علی کے انتقال کے بعد یہ وراثت 1985 میں تقسیم ہوئی، وراثتی اراضی پر عبوری تعمیرات کے لیے 1986 میں درخواست دی۔امجد پرویز نے کہا کہ اس وقت کے ڈی جی ایل ڈی اینے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
جسٹس قاضی امین نے سوال کیا کہ یہ اراضی درخواست گزار نے کب لی؟ جس کے جواب میں وکیل نے کہا کہ 22ـ5ـ1986 کو میر شکیل الرحمن کو اس اراضی کی پاور آف اٹارنی ملی۔امجد پرویز نے کہا کہ ڈی جی ایل ڈی اے نے میر شکیل الرحمن کو خط لکھا کہ کل رقبہ پالیسی کے مطابق 54 کنال 5 مرلہ بنتا ہے، اس پورے معاملے میں قومی خزانے کا ایک دھیلے کا نقصان نہیں ہوا، میر شکیل الرحمن کو ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ ملے ہیں۔جسٹس قاضی امین نے سوال کیا کہ کیا نیب نے قومی خزانے کو نقصان کا کوئی سوال اْٹھایا ہے؟ جواب میں امجد پرویز نے کہا کہ نیب نے ایک روپے کے نقصان کا سوال نہیں اْٹھایا۔
وکیل امجد پرویز نے کہا کہ یہ کیس کسی حکومتی ادارے کے بجائے ایک شہری کے دائر کرنے پر ہوا۔ دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ کیا اس وقت میر شکیل کے قبضے میں 54 کنال سے زیادہ اراضی ہے؟امجد پرویز نے کہا کہ 4 کنال 12 مرلے اراضی زائد قبضے میں ہونے کا الزام ہے، یہ اراضی راستے کے طور پر دی گئی، اس وقت 60 ہزار روپے فی کنال رقم رکھی گئی، نیب کا یہ کیس نہیں کہ اراضی کی رقم ادا نہیں کی گئی۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا یہ رقم آج بھی واجب الادا ہے؟جس پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ جی، ہمارا یہ کیس بھی ہے۔امجد پرویز نے کہا کہ ایل ڈی اے کو رقم پالیسی کے مطابق 1987 میں ادا کردی گئی ہے، نیب کا کیس ہیکہ پالیسی کے تحت نہیں بلکہ مارکیٹ ریٹ پر رقم ادا کرنی تھی۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ نے دیکھنا ہے کہ آپ کا کیس پالیسی کے تحت درست بنتا ہے؟ کیا اس سارے عمل میں کوئی چیز بھی پالیسی کے برعکس نہیں تھی؟نیب بتائے اس جج کے پاس کتنے کیس زیرالتوا ہیں جہاں میر شکیل کا کیس ہے، نیب اس احتساب عدالت میں زیر التوا مقدمات کے گواہان کی تعداد بھی بتائے۔جواب میں امجد پرویز نے کہا کہ میر شکیل الرحمن نے 1987 میں پاور آف اٹارنی حاصل کی،کیس یہ ہے کہ 4 کنال 12 مرلہ کی اضافی زمین حاصل کی گئی، اضافی زمین کی قیمت 1987 کے ریٹ کے مطابق ادا کر دی گئی تھی۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ نے سڑکوں کی زمین حاصل کی، اس کے جواب میں امجد پرویز نے کہا کہ جو اضافی زمین حاصل کی گئی اس کو یہ سڑکیں کہہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور کا ماسٹر پلان 27 اگست 1990 میں منظور ہوا تھا جبکہ میر شکیل الرحمٰن نے زمین 1987 میں خریدی اور اضافی زمین کی قیمت بھی ادا کی، خریدی گئی زمین پر تعمیرات ایل ڈی اے کی منظوری کے بعد کی گئیں،میر شکیل الرحمٰن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ آج تک ان تعمیرات پر کوئی اعتراض نہیں اْٹھایا گیا، 34 سال بعد اچانک کیس آگیا۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے میر شکیل الرحمن کی ضمانت منظور کرلی ۔









