سپریم کورٹ 163

سپریم کورٹ میں سندھ میں بلدیاتی اختیارات کیس‘ سندھ حکومت بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے کی پابند قرار

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) سپریم کورٹ نے بلدیاتی اختیارات کیس میں ایم کیو ایم کی درخواست نمٹا دی اور کہا سندھ حکومت بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے کی پابند ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ پرایم کیو ایم کی کی درخواست پر فیصلہ سنادیا ، فیصلے میں عدالت نے کہا سندھ حکومت بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے کی پابند ہے، ماسٹر پلان بنانااور اس پر عملدرآمد بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ بلدیاتی حکومت کے تحت آنےوالا نیامنصوبہ صوبائی حکومت شروع نہیں کر سکتی، آئین کے تحت بلدیاتی حکومت کومالی،انتظامی اور سیاسی اختیارات یقینی بنائے جائیں، سندھ حکومت مقامی حکومتوں کیساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن رکھنے کی پابند ہے۔

عدالت نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی شق 74 اور 75 کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ سندھ حکومت تمام قوانین کی آرٹیکل 140 اے سے ہم آہنگی یقینی بنائے۔سپریم کورٹ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ایکٹ، کے ڈی اے قوانین، ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قوانین بھی آئین کے مطابق تبدیل کرنے کا حکم دے دیا اور ساتھ ہی لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی، واٹر بورڈ قانون، سہون ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور لاڑکانہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قوانین میں بھی ضروری ترامیم کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے کہا کہ قوانین کی ان شقوں میں تبدیلی کی جائے جہاں صوبائی اور مقامی حکومتوں کے اختیارات میں تضاد ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایم کیو ایم رہنما فیصل سبز واری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 2013 کاقانون موجودہے،قانون آئین کےخلاف نہیں ہوناچاہیے، ایم کیوایم کےسواکوئی جماعت پٹیشن لےکرنہیں گئی،ف مقامی حکومت ایسی ہونی چاہیےکہ اس کےپاس سارےاختیارہوں۔فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ پانی، صفائی، ماسٹر پلان بنانا بلدیاتی حکومتوں کے کام ہیں، صوبائی حکومت نے آئین کے خلاف قانون بنایا، آئین کہتا ہے کہ مقامی حکومتوں کواختیارات دینےچاہیے۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ منتخب حکومت کی سندھ میں کوئی حساسیت نہیں ہے، ایم کیوایم نےسندھ حکومت پربھرپوردباوڈالا، بڑی چیربلدیاتی حکومت میں مالیاتی اختیارات ہیں، پیسے صوبائی مالیاتی کمیشن سے آنے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئین سے متصادم کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی، لیگل ٹیم سے مشاورت کےبعدہم لائحہ عمل طےکریں گے، 18ویں ترمیم کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ وہ آزاد ریاست ہوگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں