توہین رسالت 243

سوشل میڈیا پر توہین رسالت۔ ہر مجرم کے خلاف مقدمہ درج ہوگا۔ایف آئی اے نے ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش کردی

تنویر سرور۔۔۔

لاہور ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر توہین رسالت، توہین مذہب کے خلاف دائر پٹیشن کے جواب میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروادی ہے۔

 توہین رسالت
جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے توہین مذہب اور توہین رسالت پر مبنی 811 پوسٹیں سوشل میڈیا سے ہٹانے کے لیے پی ٹی اے کو لکھا جبکہ 131 افراد کے خلاف مقدمات درج کیئے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم کے ایڈیشنل ڈائیریکٹر سرفراز ورک کا کہنا تھا کہ توہین رسالت کے کسی مجرم کو بخشا نہیں جائیگا۔ہر ایک کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمات درج کیئے جائینگے۔

 توہین رسالت
شہری تنویر سرور نے ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران اور ایڈووکیٹ ندیم سرورکی وساطت سے دائر کردہ رٹ پٹیشن میں وفاقی وزارت داخلہ، ایف آئی اے اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کو فریق بنایا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سینٹ کے 314ویں اجلاس کے وقفہ سوالات میں سینیٹر فدا محمد کے سوال پر وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تحریری طورپر بیان کیا کہ ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد اپلوڈ کرنے کے جرم میں 256 افراد کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 ہے سیکشن 37کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ایسے مواد کی بلاکیج اور ریموول کے لئے ان کے کیس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کو ارسال کئے۔جبکہ ایف آئی اے نے محض 66افراد کے خلاف مقدمات درج کئے۔

درخواست گزار نے بیان کیا کہ توہین رسالت یا توہین مذہب ناقابل راضی نامہ جرم ہے اور ایف آئی اے نے جرم ثابت ہونے پر 256 افراد کے کیسز پی ٹی اے کو ارسال کیے۔ ایسے میں محض 66 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنا آئی اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ مقدمات تمام 256 افراد کے خلاف دائر ہونے چاہیئں۔

اور 190 افراد کو چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔ان پر مقدمات درج کئے جائیں۔
عدالت نے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں