کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس بریت کیخلاف اپیلوں کی سماعت ایک بار پھر پیپر بک کی صاف نقول کی عدم فراہمی اور وکلا کی استدعا پر 24 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔
منگل کو سندھ ہائیکورٹ میں میر مرتضی بھٹو قتل کیس بریت کیخلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی۔ وکیل صفائی عامر منسوب قریشی ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ دفتر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ صاف اور واضح نقول تاحال تیار نہیں ہوئیں۔ کیس میں متعدد ملزم انتقال کرچکے ہیں۔ شاہد حیات، شبیر احمد قائمخانی، آغا محمد جمیل، مسعود شریف کا انتقال ہوچکا ہے۔ اپیل کنندہ کے وکیل نے موقف دیا کہ کیس میں نامزد مرحوم پولیس افسر شاہد حیات کی اپیل میں منسلک دستاویزات پڑھنے کے قابل نہیں ہیں۔
عدالت نے درست دستاویزات اپیل کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے اپیل کی سماعت ایک بار پھر پیپر بک کی صاف نقول کی عدم فراہمی اور وکلا کی استدعا پر 24 مارچ تک ملتوی کردی۔ مرتضی بھٹو کو 20 ستمبر 1996 میں د70کلفٹن کے قریب پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کے دو مقدمات درج کیئے گئے تھے۔ ایک مقدمہ سرکار جبکہ دوسرا مقدمہ مرتضی بھٹو کے اہلخانہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات میں تمام ملزموں کو بری کردیا تھا۔









