سندھ ہائیکورٹ 68

سندھ ہائی کورٹ،کاروباری تنازع پر اغوا برائے تاوان کا کیس،رپورٹ جمع نہ کروانے پر آئی جی سندھ پر برہمی کا اظہار

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ نے کاروباری تنازع پر اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج کرنے کے خلاف درخواست میں رپورٹ جمع نہ کروانے پر آئی جی سندھ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ اور ایف آئی آر لکھنے والے اے ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیاہے۔پیرکوسندھ ہائیکورٹ میں کاروباری تنازعہ پر اغوا برائے تاوان کے مقدمے کے اندراج کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ مدعی مقدمہ دانش متین اور ملزم فیصل حمید کے درمیان 31 کروڑ لین دین کا تنازع ہے۔ 22جنوری کو گزری پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فریقین نے ایک دوسرے کیخلاف چیک بائونس کے مقدمات درج کروائے ہوئے ہیں۔ عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں تو اغوا برائے تاوان کا الزام شامل نہیں۔ پولیس نے اغوا برائے تاوان کا الزام کیسے شامل کیا، اس میں تو موت کی سزا ہوتی ہے۔ آئی او اے وی سی سی نے کہا کہ ضمنی کے تحت اغوا برائے تاوان کا الزام شامل کیا گیاہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ فریقین کے درمیان کاروباری تنازع پہلے سے چل رہا تھا تو اغوا کا مقدمہ کیوں درج کیا گیا؟ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیئے کہ ملزم کا سی آر او کیوں نہیں کروایا گیا؟ آپ جانتے تھے کہ سی آر او کروایا تو اغوا کا مقدمہ کمزور ہوگا۔

جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ اگر یہ ٹرینڈ بن گیا تو پولیس کیخلاف بھی مقدمہ درج ہوگا۔ پولیس بھی تو 3، 4 دن رکھنے کے بعد گرفتاری شو کرتی ہے۔ پولیس کیخلاف بھی اغوا کا مقدمہ درج ہونا چاہیئے؟ آئی جی سندھ کو انکوائری کا حکم دیا تھا، کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ آپ جتنی چالاکیاں کرلیں عدالت سے چھپ نہیں سکتے۔ اسی وجہ سے آپ کے مقدمات میں سزائیں نہیں ہوتی ہیں۔ سچی ایف آئی آر داخل کریں گے تو سزا بھی ہوگی۔ عدالت نے آئی جی سندھ کی جانب سے رپورٹ نا کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو طلب کرلیا۔ عدالت نے ایف آئی آر لکھنے والے اے ایس آئی رشید کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت 11 فروری تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں