سندھ ہائیکورٹ 52

سندھ ہائی کورٹ نے اورنگی ٹاؤن میں ڈاکو کو باندھ کر زندہ جلانے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی سے متعلق درخواست نمٹادی

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ نے اورنگی ٹاؤن میں ڈاکو کو باندھ کر زندہ جلانے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی سے متعلق درخواست نمٹادی ۔

سندھ ہائیکورٹ میں اورنگی ٹاؤن میں ڈاکو کو باندھ کر زندہ جلانے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالتی احکامات پر ایس ایچ او اورنگی ٹاؤن کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ واقعے کا مقدمہ قتل کی دفعات کے تحت گل محمد کی مدعیت میں درج ہے۔ واقعے میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

وکیل سندھ حکومت نے موقف اپنایا کہ پولیس حکام نے یقینی دہانی کروائی ہے ایسے واقعات مستقبل میں نہیں ہوں گے۔ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے لا اینڈ جسٹس سسٹم کے تحت مہم چلائی جائے گی ۔ واقعے کی مکمل غیر جانبدارنہ تحقیقات کرکے ملوث ملزمان کیخلاف کیس چلایا جائے گا۔ عدالت نے ریمارلس دیئے کہ مقتول کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے پولیس یقینی بنائے کہ ایسے واقعات مستقبل میں رونما نا ہوں۔ درخواستگزار کے وکیل نے رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے درخواست نمٹادی۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ یکم دسمبر 2025 کو ایک غیر انسانی واقعہ رونما ہوا۔ نامعلوم افراد نے 35 سالہ عبدالحنان کو مبینہ ڈاکو کہے کر کھمبے سے باندھ کر آگ لگادی تھی۔پولیس اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لینے سے قاصر ہے۔ درخواستگزار نے اس واقعے کا مقدمہ درج کرنے کے لیے ایس ایچ او اورنگی ٹان سے رابط کیا تو مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا گیا ہے۔ ایس ایچ او نے کہا کہ اگر کوئی کارروائی کی تو تمہیں بھی زندہ جلادوں گا۔ آئی جی سندھ و دیگر کو طلب کرکے واقعے کی تفصیلات طلب کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں