لاہور ہائی کورٹ 68

سموگ تدارک کیس ،پارکوں کے حوالے سے واضح پالیسی بنانے ،تمام شوگر ملز میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کرنے کا حکم

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران لاہور کے 804پارکوں کے حوالے سے واضح پالیسی بنانے اور تمام شوگر ملز میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کرنے کا حکم دیدیا ، عدالت ناصر باغ سمیت لاہور کے دیگر تاریخی مقامات پر نئے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے بغیر مناسب منصوبہ بندی کے شروع نہیں کیے جاسکتے، کیونکہ یہ شہر کے تاریخی حسن کو متاثر کرسکتے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔پنجاب حکومت، ایل ڈی اے، ہائوسنگ اتھارٹی، واسا، ٹریفک پولیس، محکمہ ماحولیات سمیت مختلف محکموں کے نمائندگان پیش ہوئے۔اس کے ساتھ ممبر جوڈیشل کمیشن ، اظہر صدیق ایڈوکیٹ اور میاں عرفان اکرم سمیت دیگر بھی پیش ہوئے۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ اورنج لائن بن چکی ہے، روڈا بننے جا رہا ہے، پتہ نہیں کیا ہوگا، میرے فیصلے موجود ہیں، ڈویلپمنٹ ہوسکتی ہے مگر گرین ڈویلپمنٹ بھی کوئی چیز ہے، ناصرباغ، گورنمنٹ کالج اوراسی نوعیت کے تاریخی مقامات شہر کاچہرہ ہیں، ایل ڈی اے کوچاہیے کہ ان تاریخی اثاثوں کو خراب کرنے سے ہرممکن اجتناب کرے۔ اگر منصوبہ بندی مناسب نہ ہوئی تو عدالت کواسے روکنے پرمجبور ہونا پڑے گا۔

عدالت نے مزید کہا کہ ناصرباغ منصوبے کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد سوسائٹی کے نمایاں اور باشعورطبقات سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان کے موقف کو سنجیدگی سے سننا ضروری ہے۔ڈی جی ایل ڈی اے ناصر باغ پراجیکٹ بارے ماہر تعمیرات کو مطمئن کریں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ناصر باغ سمیت کئی تاریخی مقامات کی اہمیت ہے، کسی بھی ادارے کو پراجیکٹ شروع کرنے سے پہلے اس اہمیت کو سامنے رکھنا چاہئے، ڈی جی ایل ڈی اے، ماہرین اور ممبر جوڈیشل کمیشن سے میٹنگ کریں اگر تحفظات دور نہ کئے تو مجبورا ناصر باغ پراجیکٹ روکنا پڑے گا۔ماہر تعمیرات رضا علی دادا نے عدالت کو بتایا کہ یہ پراجیکٹ ناصر باغ کی جگہ پر مناسب نہیں، اس پر عدالت نے ڈی جی ایل ڈی کو ان سے پراجیکٹ بارے ملاقات کی ہدایت کی۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ لاہور میں چھوٹے بڑے 804پارک ہیں۔

جسٹس شاہد کریم نے پی ایچ اے کو تمام پارکوں میں تجاوزات ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیئے اور ریمارکس دیئے کہ درخت اور ہریالی کو ختم کرنا کسی صورت درست نہیں۔جسٹس شاہدکریم نے لاہورکے804پارکس کے حوالے سے واضح پالیسی تشکیل دینے کا حکم دیا۔ ان کا کہناتھاکہ انویسٹرزسے سرمایہ لیکر پارکس کی خوبصورتی پرخرچ کیا جاسکتا ہے تاکہ شہریوں کو بہترماحول فراہم کیا جاسکے۔ دوران سماعت عدالت نے شوگرملزسے متعلق اہم حکم جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ تمام شوگر ملز تین ماہ کے اندر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائیں، ورنہ ایسی ملز کو بند کیا جائے گا ۔ ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ محکمہ ماحولیات نے اپنے رولز میں ترمیم کی جس کے تحت ناصر باغ سمیت کچھ پراجیکٹس پر این او سی کی ضرورت نہیں۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پی ایچ اے قانون کے مطابق درختوں کی پلانٹیشن کرے، لاہور میں جو پارک ٹھیک حالت میں نہیں، ان کو بحال کیا جائے، جن پارکس میں تجاوزات ہیں ان کو ختم کریں پارکس کو بحال کریں تاکہ بچے وہاں کھیل سکیں۔عدالت نے مختلف محکموں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں