عالمی ادار صحت 8

سال2050 تک دنیا بھر میں کینسر کے نئے کیسز میں 77 فیصد اضافے کا خدشہ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)دنیا بھر میں کینسر صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ 2050 تک اس مرض کے سالانہ نئے کیسز کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ عالمی ادارہ صحت اور کینسر پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے کے تخمینوں کے مطابق، 2022 کے مقابلے میں نئے کیسز میں تقریباً 77 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں کینسر کے تقریباً 2 کروڑ نئے کیسز سامنے آئے، جبکہ اس مرض کے باعث تقریباً 97 لاکھ افراد جان سے گئے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر پانچ میں سے تقریباً ایک شخص کو زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر کینسر لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح تقریباً ہر نو میں سے ایک مرد اور ہر 12 میں سے ایک خاتون کی موت کینسر کے باعث ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی بڑی وجوہات میں عالمی آبادی میں اضافہ، عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنا اور بیماری کے خطرے سے متعلق عوامل میں تبدیلی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی، شراب نوشی اور موٹاپا بھی کینسر کے اہم خطرات میں شمار ہوتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں سب سے زیادہ تشخیص ہونے والا کینسر تھا، جس کے تقریباً 25 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے۔

یہ مجموعی کیسز کا 12.4 فیصد تھے۔ خواتین میں چھاتی کا کینسر بھی عام اقسام میں شامل رہا، جبکہ بڑی آنت، پروسٹیٹ اور معدے کے کینسر کے کیسز بھی بڑی تعداد میں رپورٹ ہوئے۔ماہرین کے مطابق مختلف ممالک میں کینسر کے کیسز میں اضافے کی شرح یکساں نہیں ہوگی، کیونکہ اس کا انحصار آبادی کی صورت حال، معاشی و سماجی ترقی اور بیماری کے خطرے کے عوامل پر بھی ہے۔عالمی اداروں نے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے اس کی روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج کی سہولتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آگاہی اور بروقت طبی معائنے کے ذریعے بیماری کے بوجھ اور اس سے ہونے والی اموات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں