سعید غنی 41

سال 2018 سے 2023 کے دوران صوبے بھر میں 2911 نئے صنعتی یونٹس کھلے،سعید غنی

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سال 2018 سے 2023 کے دوران صوبے بھر میں 2911 نئے صنعتی یونٹس کھلے جبکہ 1024 صنعتی یونٹس کوووڈ، لاک ڈان کی وجہ سے خام مال کی قلت، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سمیت دیگر وجوہات کی وجہ سے بند ہوئی۔ ورکرز ویلفیئرز بورڈ سندھ کے تحت ٹنڈو محمد خان روڈ حیدرآباد میں 1504 فلیٹس تعمیر کئے گئے اور یہ فلیٹس صنعتی مزدوروں کی الاٹمنٹ کمیٹی کے ذریعے 2021 سے 2023 میں الاٹ کردئیے گئے ہیں ۔

محکمہ مائنز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن کے تحت جھمپیر میں 5.00 ملین کی لاگت سے مائنز لیبر ویلفیئر پرائمری اسکول کی پرانی عمارت کی بحالی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اس وقت وہاں فنشنگ کا کام جاری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات میں محکمہ محنت و افرادی قوت کے تحریری سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد حزب اختلاف علی خورشیدی کے تحریری سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ سال 2018 سے 2023 کے دوران صوبے بھر میں 2911 نئے صنعتی یونٹس کھلے جبکہ 1024 صنعتی یونٹس کوووڈ، لاک ڈاؤن کی وجہ سے خام مال کی قلت، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سمیت دیگر وجوہات کی وجہ سے بند ہوئی۔

ان میں سے کراچی سینٹرل ڈویژن میں 75 نئے صنعتی یونٹس کھلے جبکہ اس دوران 330 یونٹس بند ہوئے۔ ساتھ ڈویژن میں 13 نئے یونٹس کھلے اور کوئی بند نہیں ہوا۔ ایسٹ ڈویژن میں 467 نئے یونٹس کھلے اور 30 بند ہوئے۔ سب سے زیادہ صنعتی یونٹس ڈسٹرکٹ ویسٹ میں 1901 کھلے اور سب سے زیادہ 467 یونٹس بھی اسی ڈویژن میں بند ہوئے جبکہ حیدرآباد ڈویژن میں 455 نئے یونٹس کھلے اور اس دورانیہ میں 167 صنعتی یونٹس بند ہوئے ۔ اپوزیشن رکن معاذ محبوب کے تحریری سوال کے جواب میں سعید غنی نے ایوان کو تحریری طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2020 سے 2023 کے دوران صوبہ سندھ میں مجموعی طور پر 1558 صنعتی یونٹس بند رہے۔ جن کی بندش کی بنیادی وجہ کوووڈ 19 کی عالمی وبا تھی۔

اس کے علاوہ بندش کی وجوہات میں عالمی لاک ڈان کے باعث آرڈر کی کمی، خام مال کی قلت، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، صرف مخصوص صنعتوں اور فیکٹریوں کو کاروبار کی اجازت، مزدوروں کا حفاظتی خدشات کے پیش نظر اپنے آبائی علاقوں کو واپس جانا کے ساتھ ساتھ ملک کی اس وقت کی معاشی صورتحال بالخصوص گیس کی قلت، بجلی کی بندش، ٹیکسوں میں اضافہ اور دیگر شامل ہیں ۔ رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر فوزیہ حمید کے ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی جانب سے ڈسٹرکٹ حیدرآباد میں صنعتی مزدوروں کے 1504 فلیٹس کی تعمیرات کے تحریری سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے ایوان کو بتایا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے تحت ٹنڈو محمد خان روڈ حیدرآباد میں 1504 فلیٹس تعمیر کئے گئے اور یہ فلیٹس صنعتی مزدوروں کی الاٹمنٹ کمیٹی کے ذریعے 2021 سے 2023 میں الاٹ کردئیے گئے ہیں ۔

اس وقت ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ ان فلیٹس سے متعلق تمام انتظامی امور، مرمت اور دیکھ بھال کی سرگرمیوں کو رائج پالیسی کے مطابق انجام دے رہا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ حمید کے ہی مائنز لیبر ویلفیئر پرائمری اسکول جھمپیر کے حوالے سے تحریری سوال کے جواب میں سعید غنی نے ایوان کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ محکمہ مائنز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن کے تحت جھمپیر میں 5.00 ملین کی لاگت سے مائنز لیبر ویلفیئر پرائمری اسکول کی پرانی عمارت کی بحالی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اس وقت وہاں فنشنگ کا کام جاری ہے۔

مختص شدہ 5.00 ملین روپے میں سے 1.998 ملین روپے مالیت سال 2023-24 کے دوران خرچ کئے جاچکے ہیں ۔ جبکہ باقی مانندہ 3.002 ملین روپے مالیت سال 2024-25 کے لئے مختص ہوئے۔ کل رقم 4.00 ملین روپے اس اسکول کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں جبکہ 1.00 ملین روپے رونیو اخراجات کے لئے مختص ہیں، جن میں فرنیچر وغیرہ کی خریداری شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں