وزیر خزانہ 104

ریٹیلرز پر ٹیکس لگائیں گے، ہر شعبے کو ٹیکس نیٹ میں حصہ ڈالنا پڑے گا، وزیر خزانہ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہم ریٹیلرز پر ٹیکس لگائیں گے، کیونکہ ہر شعبے کو ٹیکس نیٹ میں اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا، اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر ہم ایسے ہی واپس وہیں تنخواہ دار طبقے کی طرف ہی جاتے رہیں۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی قریب مین ہم ہر چیز ٹرائی کر چکے ہیں، پاکستان کو بیلنس آف پیمنٹ کے ایشو سے نکالنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں ہم ہرچیزٹرائی کرچکے ہیں، آئی ٹی کے شعبے میں پلے بار 3.2 بلین ڈٓالرز کی ایکسپورٹ ہوئیں۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو بھی قرضہ دینا ہے، چھوٹےپیمانےکی صنعتوں کو بھی قرضہ دینا ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی برآمدات کو ماہانہ 4 ارب ڈالر تک بڑھاناہوگا، پرامید ہوں اسٹیٹ بینک شرح سود بتدریج کم ہوگا، اس وقت شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش ہے، بینکوں سےکاشتکاروں،چھوٹے کاروبار کےلیے قرضے کا کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے کہا کہ ہم ریٹیلرز پر ٹیکس لگائیں گے، کیونکہ ہر شعبے کو ٹیکس نیٹ میں اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا، اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر ہم ایسے ہی واپس وہیں تنخواہ دار طبقے کی طرف ہی جاتے رہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ریٹیلرز، بلڈرز اور ریئل اسٹیٹ ڈوپلرز ہیں، زراعت وفاقی نہیں، صوبائی شعبہ ہے، وزیر اعلی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اتفاق کیا کہ زرعی شعبے سے متعلق قانون سازی کی طرف جائیں گے، تا کہ اس شعبے کو بھی ٹکس نیٹ میں لایا جا سکے لیکن یہ بات نہ آپ ماننے کے لیے تیار ہیں نہ فنڈ کہ آپ یہ کر پائیں گے کہ جو 70 سال میں نہیں ہوسکا، وہ اب کیسے ہوجائے گا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ جو چیزیں 75 سال سے نہیں ہوئیں، اب ہم وہ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، اب ہم اس پر سطح پر پہنچ گئے ہیں کہ اگر آپ پر ہی، سیلری کلاس پر ٹیکس بڑھتے جائیں تو ایک سال تو ہم یہ کرلیں گے، اس سال بھی آپ کی باتیں جائز ہیں لیکن ہم آگے کہاں جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں