بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)چین کے شمال مغربی صوبے شانشی کے شہر وینان کے ایک زچہ و بچہ ہسپتال میں، ایک غیر معمولی میڈیکل کنسلٹیشن جاری ہے۔ جب ڈاکٹر وانگ جیا پھنگ ایک ننھے مریض کا معائنہ کر رہے تھے، تو ایک اے آئی سسٹم پورے وقت ان کے ساتھ موجود رہا، جس نے مریض کی علامات کا تجزیہ کیا، لاکھوں میڈیکل ریکارڈز سے موازنہ کیا، اور تشخیص و علاج کے لیے فوری طور پر درست مشورے فراہم کیے۔
بیجنگ چلڈرنز ہسپتال کی ایک دہائی کی محنت سے تیار کردہ یہ اے آئی سسٹم اب بیجنگ کے اعلیٰ ترین ہسپتالوں سے نکل کر ملک کے 12 صوبوں کے ضلعوں اور قصبوں میں طبی اداروں میں کام کر رہا ہے ۔ اس سے قبل، دور دراز علاقوں کے لاکھوں بیمار بچوں کو علاج کے لیے شی آن، اور گوانگژو جیسے بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑتا تھا، اور بیجنگ جانا عام خاندانوں کے لیے مجبوراً اٹھایا جانے والا آخری قدم ہوتا تھا۔ لیکن آج، یہ اے آئی سسٹم ایک ایسی بنیادی طبی ٹیم کی صورت میں کام کر رہا ہے جو کبھی اپنی ڈیوٹی نہیں چھوڑتی اور جس کی بدولت دور دراز علاقوں کے بچے اپنے گھر کے قریب ہی چین کے بہترین ماہرین اطفال کی صلاحیتوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت میں آگے بڑھ جانے کی دوڑ جاری ہے اور بہت سی ٹیکنالوجیز صرف منافع بخش کاروبار پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔ایسے میں چین نے عوامی بہبود اور مساوات کو مقصد بنا کر اے آئی کی ترقی کا ایک الگ راستہ اختیار کیا ہے۔ صدر شی جن پھنگ کی ورلڈ انٹیلی جنس کانگریس میں کی گئی گفتگو چین کے اے آئی ترقیاتی موقف کی واضح عکاسی کرتی ہے: “ہمیں انسان دوستی اور بھلائی کے نظریے پر قائم رہنا چاہیے، اور مصنوعی ذہانت کو مشترکہ خوشحالی اور مشترکہ سلامتی کے لئے ایک اہم محرک بنانا چاہیے۔”
بنیادی طبی مراکز میں نافذ ہونے والا مزکورہ نظام بالکل اسی نظریے کا زندہ اور عملی مظہر ہے۔ طویل عرصے سے، بچوں کے لیے طبی وسائل کا عدم توازن چین کے طبی نظام میں ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ بیجنگ چلڈرنز ہسپتال ملک کے بہترین ماہرین اطفال اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کا مرکز ہے، لیکن ایک ادارے کی استعداد محدود ہوتی ہے ۔
ماضی میں، ہسپتال نے مقامی ہسپتالوں کی سرپرستی، ماہر معالجوں کی تعیناتی اور نیشنل میڈیکل الائنس فار چلڈرن کے قیام کے ذریعے بنیادی طبی مراکز کی مدد کی، لیکن انسانی وسائل کی فراہمی میں موجود حدود ، وسیع و عریض علاقوں میں تمام دور دراز مقامات کی طبی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتیں۔ بالکل اسی عملی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے، چینی طبی ماہرین اور ٹیکنالوجی کی کمپنیوں نے مل کر مختصر مدتی کاروباری منافع کو ترک کیا، اور بڑے طبی ماڈلز پر کام کیا۔ انہوں نے سینکڑوں اعلیٰ ترین ماہرین کے علاج کے طریقوں، تین کروڑ اعلیٰ معیار کے میڈیکل ریکارڈز اور جدید طبی ہدایات کو ذہین الگورتھم میں تبدیل کر کے بنیادی ضروریات کے مطابق بچوں کے لیے ایک اے آئی نظام تیار کیا۔
کچھ ممالک میں اے آئی کی ترقی میں جدت پر زیادہ توجہ اور عملی استعمال پر کم توجہ دی جاتی ہے، جبکہ معاشی فوائد کو اہمیت دی جاتی ہے اور مساوی سہولت کی فراہمی کو کم اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس چین میں مصنوعی ذہانت کی ترقی میں ہمیشہ وسیع پیمانے پر عوام تک رسائی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اسے متوازن اور بااختیار بنانے کو بنیادی اصولوں کے طور پر اہمیت دی گئی ہے۔ وینان میں، اس اے آئی نظام کے نفاذ نے بنیادی طبی وسائل کو مکمل طور پر فعال کر دیا ہے۔ طبی صلاحیت کے محدود ہونے کی وجہ سے سنسان رہنے والے پیڈیاٹرک کلینکس میں اب مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے ۔
ڈاکٹروں کے اعتماد اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور مقامی بچے اب صوبے سے باہر جائے بغیر ہی علاج کی سہولت حاصل کر کے صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ نظام صرف ایک تشخیصی آلہ نہیں بلکہ ڈاکٹروں کے لیے ایک بنیادی “آن لائن مینٹور” ہے۔ اس کا سوال و جواب کا معیاری طریقہ کار اور جامع علامات کا احاطہ کرنے کا طریقہ ڈاکٹروں کو عملی تجربے سے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کا موقع دیتا ہے۔ اس طرح “ڈاکٹروں کے تجربے کی کمی کی وجہ سے مریضوں کا کم ہونا اور مریضوں کی کمی کی وجہ سے تجربے کا حصول مشکل ہونا” کے “سائیکل ” کو توڑ دیا گیا ہے، اور بنیادی سطح پر ایک ایسی ذہین طبی ٹیم تیار ہو گئی ہے جو ہمیشہ موجود رہتی ہے ۔
ٹیکنالوجی کے نظم و نسق اور ترقیاتی اصولوں کے حوالے سے، چین کی مصنوعی ذہانت ہمیشہ عملی جدت، محفوظ کنٹرول اور متوازن رویے پر مبنی واضح موقف اختیار کرتی ہے، اور عالمی سطح پر اے آئی کی ترقی کے لیے چینی روڈ میپ پیش کرتی ہے۔ اے آئی کی تشخیصی درستگی اور تکنیکی خامیوں کے بارے میں صنعتی بحث کا سامنا کرتے ہوئے، چینی پیشہ ور افراد ایک واضح اور عملی رویہ رکھتے ہیں۔ وہ اے آئی ٹیکنالوجی کو سپر نیچرل نہیں مانتے اور نہ ہی اس کے مطلق کمال کے خواہاں ہیں۔ مزکورہ اے آئی نظام کی درستگی 95 فیصد تک مستحکم ہے، جو کلینیکل تشخیص کے عملی تقاضوں سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ ہمیشہ “انسان اور مشین کے اشتراک اور ڈاکٹر کی قیادت” کے اصول پر کاربند رہتا ہے، اور صرف ایک معاون “ٹول” کے طور پر کام کرتا ہے جو ڈاکٹر کے پیشہ ورانہ فیصلے کا متبادل ہرگز نہیں بنتا۔ اس منصوبے کی تحقیق وترقی میں ہمیشہ معاشرتی فوائد کو ترجیح دی گئی ہے، اور یہ طبی وسائل سے محروم پسماندہ علاقوں پر خاص طور پر توجہ مرکوز کرتا ہے ۔ اگرچہ اس وقت اس منصوبے کے لیے آمدنی کا کوئی ذریعہ موجود نہیں اور اسے مالی دباؤ کا سامنا ہے، لیکن تحقیقی ٹیم پھر بھی بنیادی سطح پر عوامی خدمت کے لیے اس نظام کو جاری رکھنے اور بلا معاوضہ اسے بنیادی مراکز کو فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
ٹیم نے عوامی فلاح و بہبود کی قیمت پر تجارتی مفادات کو حاصل کرنے سے انکار کردیا ہے۔ فوری فائدے کے بجائے طویل مدتی فوائد کو ترجیح دینے کا یہی تصور چین میں ٹیکنالوجی کو انسانوں کی بھلائی کے لئے استعمال کرنے اور انسان کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کا مرکز بنانے کے اصول کی ایک واضح مثال ہے ۔








