رائے ونڈ (رپورٹنگ آن لائن)شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دیگر اشیاء کی طرح گھی کی قیمت بھی سرکاری ریٹ لسٹ میں شامل کی جائے ۔تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ لاہور کی جانب سے جاری کردہ اجناس کی ریٹ لسٹ میں آٹا ،چاول ،دال چنا ،دال مسور،دال ماش ،دال مونگ ،کالا چنا ،سفید چنا ،بیسن ،دودھ ،دہی ،مٹن ،بیف ،روٹی اور سادہ نان کے ریٹ درج ہیں لیکن گھی کا ریٹ سرکاری ریٹ لسٹ سے غائب ہونے پر گرانفروشوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں اور بلیک مارکیٹنگ دیدہ دلیری سے ہورہی ہے ،روزمرہ استعمال ہونے والی اشیاء میں گھی بنیادی چیز ہے لیکن اسکو سرکاری ریٹ لسٹ سے میں شامل نہ کرنے پر سنجیدہ حلقے تشویش کا شکار ہیں ۔پرائس کنٹرول مجسٹریٹ گھی کی گرانفروشی اور بلیک مارکیٹنگ پر کوئی ایکشن نہیں لے سکتا جس کا دکاندار حضرات بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔
ان دنوں گھی کی مارکیٹ مندی کا شکار ہے گھی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہونے کے باجود صارفین سے 150روپے فی کلو گھی زیادہ وصول کئے جارہے ہیں ،لاہور میں گھی تیار کرنیوالی کمپنیوں نے ملی بھگت سے اپنا مال کم ریٹ پر فروخت کرنے سے انکار کردیا ہے ،کراچی برانڈ ز گھی کی قیمت پنجاب برانڈ زگھی سے 150فی کلو کم دستیاب ہے ،اس اہم ترین صورت حال پر سنجیدہ حلقوں نے چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ گھی کی قیمتوں کو سرکاری ریٹ لسٹ میں شامل کیا جائے تاکہ گرانفروشی کی روک تھام ہو سکے ۔









